ممتاز عالم دین، دانشور، سابق ڈائریکٹر ریڈیو تہران آغا سید محمد رضوی بلتستانی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
انکی نماز جنازہ آج بتاریخ 13 مئی بمطابق 15 ذیقعد بروز منگل بعد از نماز ظہرین ٹھیک ایک بجے جامع مسجد جامعہ المنتظر میں پڑھائی جائے گی۔ بعد ازاں آپکو تدفین کے لئے کراچی منتقل کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ممتاز عالم دین، دانشور، سابق ڈائریکٹر ریڈیو تہران آغا سید محمد رضوی بلتستانی سوموار کی شب داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ آج بتاریخ 13 مئی بمطابق 15 ذیقعد بروز منگل بعد از نماز ظہرین ٹھیک ایک بجے جامع مسجد جامعہ المنتظر میں پڑھائی جائے گی۔ بعد ازاں آپ کو تدفین کے لئے کراچی منتقل کیا جائے گا۔ کراچی میں ان کی نماز جنازہ آج بتاریخ 13 مئی 2025 بروز منگل بعد از نماز مغربین مسجد و امام بارگاہ پنجتنی، بلتستانی محلہ۔ اے بی سینیا لائن کراچی میں ادا کی جائے گی۔ بعد ازاں آپ کی تدفین وادی حسین میں ہوگی۔ ادارہ اسلام ٹائمز مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے دعا گو ہے کہ پروردگار مرحوم کو جوارِ محمد و آل محمد ؑ میں بلند مقام عطا فرمائے، آمین۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔