کراچی: نارتھ کراچی میں فائرنگ سے دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
نارتھ کراچی سیکٹر فائیو اے ٹو میں فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔
قائم مقام ایس پی نیو کراچی ڈویژن سلمان وحید نے بتایا کہ زخمیوں کی شناخت 24 سالہ سعید انور اور 30 سالہ رئیس کے نام سے کی گئی ابتدائی تحقیقات میں فائرنگ کا واقعہ ایک ریسٹورنٹ کے سامنے مین روڈ پر کی جانے والی فائرنگ سے پیش آنے کا بتایا جا رہا جس کی زد میں آکر دونوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم، پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کو تلاش کر کے ان کی فوٹیجز حاصل کر رہی ہے تاکہ فائرنگ کی وجہ کا تعین اور ملزمان کی شناخت میں مدد مل سکے اور اس حوالے سے بلال کالونی پولیس عینی شاہدین سے بھی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا بلدیہ 9 نمبر کلینک کے قریب فائرنگ سے 42 سالہ سلیمان زخمی ہوگیا جسے چھیپا کے رضا کاروں نے فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال پہنچایا ۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی ہاتھ پر لگنے سے پیش آیا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائرنگ سے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔