بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی ایئر ہیڈ کوارٹر میں اپنے پائلٹس کے ہاتھوں دھلائی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ کی ایئرہیڈکوارٹر میں اپنے ہی پائلٹس کے ہاتھوں درگت بن گئی۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل امرپریت سنگھ کو ایئرہیڈکوارٹر میں آپریشن سندور کی ڈی بریفنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے چار افسران نے مارا پیٹا، چاروں ہندو افسران نے سکھ ایئرچیف پر تعصب پر مبنی رویے کا الزام عائد کیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ انڈین ایئر فورس کے سربراہ کی مار پیٹ کرنے والے چاروں ہندو افسران کو حراست میں لے لیا گیا، زیر حراست بھارتی افسران میں سکواڈرن لیڈر شیواس ڈکشٹ، ونگ کمانڈر اجے راجپوت شامل ہیں۔
واقعہ میں ملوث بھارت میں فلائنگ آفیسر راکیش کمار اور سکواڈرن لیڈر نتن تلسی رام کو بھی حراست میں لےلیا گیا جبکہ واقعہ کے بعد بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل امر پریت کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔
واضح رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیان شب جب بھارت نے پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں پاکستان پر حملہ کیا تو افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اس دوران پاکستانی شاہینوں کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے گئے جن میں تین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
یہ وہی رافیل طیارے تھے جن پر بھارت کو بڑا گھمنڈ تھا لیکن پاکستانی شاہینوں نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرے ہوئے بھارت اور بھارتی فضائیہ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
ن لیگ کے سابق ایم پی اے میاں اعجاز بھٹی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ کے سربراہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔