سماعت سے محروم افراد کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی سے باخبر رکھنے کے لیے ایس ایل ٹی سہولت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پنجاب اسمبلی نے سماعت سے محروم شہریوں کو اسمبلی کارروائی سے باخبر رکھنے کے لیے خصوصی سائن لینگویج ٹرانسلیٹر (ایس ایل ٹی) کی سہولت کا اعلان کردیا ہے۔
اس سہولت سے اب سماعت سے محروم حضرات بھی اسمبلی اجلاس سمجھ سکیں گے جس کا مقصد اسمبلی کو عوام دوست اور اس کی کارروائیوں میں شراکت کو بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسکردو کی انیقہ بانو جنہیں سماعت سے محروم بچوں سے محبت نے صدارتی ایوارڈ کا حقدار بنا دیا
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ہدایت کی ہے کہ اسمبلی اجلاس میں اب سے سائن لینگویج ٹرانسلیٹر موجود رہے گا، سائن لینگویج ٹرانسلیٹر کو لائیو نشریات میں اسکرین کا مخصوص حصہ دیا جائے گا اور اسمبلی میں ایک کیمرا بھی مختص کر دیا گیا۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سماعت سے محروم حضرات کے لیے ایوان میں جگہ بھی بنا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سارہ سنی: قوتِ سماعت سے محروم پہلی بھارتی وکیل کیسے کیس لڑتی ہیں؟
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ یہ اسمبلی عوام کی نمائندہ ہے، ہر شہری کو سماعت کا حق حاصل ہے، عوام کی نمائندہ اسمبلی میں عوام کی ترجمانی اولین ترجیح ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
inclusion disability خصوصی افراد قوت سماعت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خصوصی افراد قوت سماعت پنجاب اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔