بھارتی بحریہ نے روہنگیا کے پناہ گزینوں کو سمندر میں پھینک دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
بغل میں چھری منہ پر رام رام، قاتل بھارت کا ایک مکروہ عمل بے نقاب ہوگیا، بھارتی بحریہ نے روہنگیا کے پناہ گزینوں کو سمندر میں پھینک دیا۔ درجنوں پناہ گزینیوں کو بھارتی جہاز سے میانمار کے قریب پھینکا گیا، یو این ایجنسی نے گزشتہ ہفتے ہونے والے واقعہ کی تصدی کردی۔
عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے بھارتی نیوی کی جانب سے روہنگیا مہاجرین کو سمندر میں پھینکنے کا سخت نوٹس لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نمائندے ٹام اینڈریوز نے بھارتی بحری فوج کے جہاز سے روہنگیا پناہ گزینوں کو جبراً سمندر میں اتارنے اور ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ٹام اینڈریوز نے کہا ہے کہ ایسا اقدام بے حسی پر مبنی اور ناقابل قبول ہے۔ انڈیا کی حکومت روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک اور انہیں ملک بدر کر کے میانمار بھیجنے سے گریز کرے جہاں انہیں خطرناک حالات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ہفتے بھارتی حکام نے دہلی میں مقیم درجنوں روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے بیشتر یا تمام لوگوں کے پاس بطور پناہ گزین شناختی دستاویزات بھی موجود تھیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 لوگوں کو آںکھوں پر پٹی باندھ کر ہوائی جہاز کے ذریعے انڈیمان اور نکوبار جزائر کی جانب بھیجا گیا اور پھر بھارت کی بحری فوج کے ایک جہاز پر سوار کرا دیا گیا۔ جب اس جہاز نے بحیرہ انڈیمان عبور کیا تو انہیں لائف جیکٹیں پہنا کر میانمار کے ساحل کی جانب سمندر میں دھکیل دیا گیا۔
یو این او رپورٹ کے مطابق یہ پناہ گزین تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اب وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بھارت کی ریاست آسام میں حکام نے ایک حراستی مرکز سے تقریباً 100 روہنگیا پناہ گزینوں کو نکال کر کر بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب علاقے میں بھیجا ہے۔ ان لوگوں کی موجودہ حالت کے بارے میں بھی تاحال مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔
اقوام متحدہ کے غیر جانبدار نمائندے نے واضح کیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو جہاز سے اتار کر سمندر میں دھکیلنا وحشیانہ طرزعمل ہے۔ اس واقعے کے بارے میں مزید اطلاعات کا انتظار ہے اور بھارت کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں تمام صورتحال سے آگاہ کرے۔
انہوں نے اس واقعے کو زندگی کے حق اور عالمی تحفظ کے حقدار لوگوں کی حفاظت سے متعلق ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات انسانی شائستگی کے منافی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کا یہ اقدام پناہ گزینوں کو ان کی مرضی کے خلاف ملک بدر کر کے ایسی جگہ بھیجنے کی ممانعت کی خلاف ورزی بھی ہے جہاں ان کی جان یا آزادی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روہنگیا پناہ گزینوں کو کے مطابق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :