ماسکو (ویب ڈیسک): روس کے دارالحکومت ماسکو کے Taganskaya میٹرو اسٹیشن میں سابق سوویت آمر جوزف اسٹالن کا ایک بڑا مجسمہ نما پینل دوبارہ نصب کر دیا گیا ہے، جو کئی دہائیوں قبل De-Stalinisation کے دور میں ہٹا دیا گیا تھا۔

ماسکو میٹرو انتظامیہ نے 10 مئی کو بیان میں کہا کہ یہ "ایک تاریخی ورثہ کی بحالی ہے جو دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی یادگار ہے"۔

یہ پینل "عوام کی قائد اور کمانڈر سے شکرگزاری" کے عنوان سے 1950 میں نصب کیا گیا تھا، جس میں اسٹالن کو فوجی وردی میں بچوں اور مزدوروں سے گھرا ہوا دکھایا گیا ہے جو اس کی جانب عقیدت سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ مجسمہ اسٹیشن کے اسی دور کی یاد دلاتا ہے جب سوویت یونین میں اسٹالن کے گرد شخصی پرستی اپنے عروج پر تھی۔

اس بار یہ پینل خاموشی سے دوبارہ نصب کیا گیا، اور آزاد روسی میڈیا کے مطابق، اس کی کوئی پیشگی اطلاع عوام کو نہیں دی گئی۔

اسٹالن کو ایک جانب بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کا ذمے دار سمجھا جاتا ہے، لیکن کریملن حالیہ برسوں سے اس کی شخصیت کو محب وطن رہنما کے طور پر دوبارہ پیش کر رہا ہے۔ پہلے بھی کچھ مجسمے نصب کیے گئے، مگر وہ زیادہ تر نجی املاک یا چھوٹے شہروں تک محدود رہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن