اسحاق ڈار نے جے شنکر کا حملے کی پیشگی اطلاع کا دعویٰ مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسحاق ڈار—فائل فوٹو
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھارت کا حملے کی پیشگی اطلاع دینے کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے حملے کی پیشگی اطلاع کسے دی۔
وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی جاری رہنے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ بھارت نے دوبارہ کوئی ایڈونچر کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ بھارت آج تک پہلگام واقعے کا ثبوت دینے میں ناکام ہے، اس کا سارا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ پاکستان نے ایف 16 بھارت سے کشیدگی کے دوران اڑایا ہی نہیں اور بھارت نے اسے مار گرانے کا دعویٰ کر دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کو بھرپور جواب دیا، بھارت نے جو سفارتی اقدامات کیے ہم نے ان کا بھی جواب دیا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے شور مچایا تھا، ہم نے مختلف ممالک کو آگاہ کیا تھا کہ ہم پہل نہیں کریں گے، 9 مئی کی رات کو ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے جھوٹ بولا تھا کہ پاکستان نے 15 مقامات پر حملہ کیا، ہم نے مختلف ممالک کو بتایا کہ ہم نے ابھی تک حملہ نہیں کیا، ایک مغربی ملک نے کہا کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سیز فائر پر عمل درآمد ہو رہا ہے، پہلگام واقعہ ہوا تو کچھ ممالک نے کہا کہ بھارت پنچ لگائے گا، ہم نے ان ممالک کو بتایا کہ بھارت نے پنچ لگایا تو ہم اس کا جواب دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے نے کہا کہ کہ بھارت بھارت نے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی