ایم ڈبلیو ایم کی 8 رکنی پولیٹیکل کونسل کا اعلان کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
علامہ حسن ظفر نقوی (مرکزی جنرل سیکریٹری)، انجینئر حمید حسین (ممبر قومی اسمبلی)، اسد عباس نمبردار (ممبر پنجاب اسمبلی)، مزمل حسین فصیح (تحصیل میئر پاراچنار )، میثم کاظم (اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی)، آغا سید محمد رضا (سابق وزیر قانون بلوچستان، سید محسن شہریار (بطور سیکرٹری روابط) اور سید عارف رضا زیدی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے مرکزی پولیٹیکل کونسل کے اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا۔ 8 رکنی کونسل میں علامہ حسن ظفر نقوی (مرکزی جنرل سیکریٹری)، انجینئر حمید حسین (ممبر قومی اسمبلی)، اسد عباس نمبردار (ممبر پنجاب اسمبلی)، مزمل حسین فصیح (تحصیل میئر پاراچنار )، میثم کاظم (اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی)، آغا سید محمد رضا (سابق وزیر قانون بلوچستان، سید محسن شہریار (بطور سیکرٹری روابط) اور سید عارف رضا زیدی شامل ہیں۔
اس موقع پر اسد عباس نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل کونسل کے یہ باصلاحیت اراکین اپنی خداداد فکری و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملتِ مظلوم کی مشکلات کا مداوا کرنے اور اس کے زخموں پر مرہم رکھنے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کونسل پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے سانچے میں ڈھالنے، نیز اسے ترقی و استحکام کی راہوں پر گامزن کرنے کے مقدس مشن میں ایک مجاہدانہ و بیدار کردار ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔