برطانیہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکبہ مارچ، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
لندن : فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے 77 سال مکمل ہونے پر برطانیہ میں ہزاروں افراد نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے "نکبہ مارچ" میں شرکت کی۔
لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں منعقدہ ریلیوں میں شریک افراد نے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "فلسطین آزاد کرو"، "اسرائیل کا ظلم بند کرو" اور "برطانیہ اسرائیل کو ہتھیار دینا بند کرے" جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی فوری طور پر بند کرے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کی حفاظت عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔