Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:27:17 GMT

حکومت نے بڑی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے:شبلی فراز 

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

حکومت نے بڑی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے:شبلی فراز 

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پاک بھارت جنگ پر پاکستان کا نقطہ نظر دنیا پر واضح کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی میں حزب اختلاف سے کوئی رکن لینے پر سخت تنقید کی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حملے کے بعد پوری قوم پاکستان کے لیے کھڑی ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد پاکستان کا نقظہ نظر عالمی دنیا کو بتانا ہے.

بدقسمتی سے اس کمیٹی میں پی ٹی آئی بلکہ اپوزیشن کا کوئی رکن شامل نہیں ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے بڑی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے.اپوزیشن کو اس کمیٹی میں شامل نہ کرنا افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کمیٹی میں کانگریسں کے نمائندوں کو شامل کیا. مگر جو آپ نے کمیٹی بنائی وہ سب غیر قانونی طریقے سے منتخب ہوکر آئے ہیں، یہ لوگ باہر جا کر پاکستان کا مقدمہ کیا لڑیں گے۔ شبلی فراز نے مزید کہا کہ ملک کی خدمت کے لیے اپوزیشن اپنی کمیٹی بنا کر اپنے نمائندے، اپنے خرچ پر بھیجے گی، بھارت سے ہمیں بھی خطرہ ہے اور اب حکومت اپنے چکر میں لگ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں یہ قومی مسئلہ ہے تو پوری قوم کو ساتھ لے چلیں، بانی پی ٹی آئی کو دنیا پہچانتی ہے ان کا نام استعمال کریں۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک وضاحت دوں گا کہ حکومتی وفد میں صرف حکومتی لوگ شامل ہوتے ہیں. تاریخ میں ایسی روایت اور مثالیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا سیاسی حق ہے کہ وہ اختلاف رائے کا اظہار کرے. قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ پارلیمانی وفود کے حوالے سے غور کررہے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت سے گزارش ہے کہ اپوزیشن اپنے جو نمائندے باہر بھیجے ان کے نام ای سی ایل میں نہ ڈالے جائیں۔انہوں نےکہا کہ چیئرمین سینیٹ کے ساتھ حکومتی ارکان اور اپوزیشن اس معاملے پر ساتھ بیٹھے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں 18 مئ کی رات کو جنرل سیکرٹری بار کونسل عطاء اللہ بلوچ کو اغواء کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے. اس اقدام سے اس کی توہین کی گئے، انہوں نے کہا کہ قومی یک جہتی کا پورے ملک میں ماحول ہے، اسے چلنے دیں۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جواباً کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ خود ہی جج بن گئے اور بول رہے ہیں کہ اغواء میں سیکورٹی فورسز ملوث ہیں.میں اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہاں سیکورٹی فورسز کی نمائندگی کرتے ہیں؟سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ جی ہاں! میں نمائندگی کرتا ہوں، اس کے بعد سینیٹر کامران مرتضیٰ اور انوار الحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی. جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر نے انہیں ہدایت کی کہ دونوں رہنما چیئر کو مخاطب کرکے بات کریں۔

سینیٹر خانزادہ نے دستور کے آرٹیکل 228 کا ترمیمی بل 2025 پیش کیا جسے بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، سینیٹر افنان اللہ نے امتناع ناشائستہ اشتہارات ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا. یہ بل بھی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اسی طرح سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری فوڈ سیفٹی ترمیمی بل 2025، سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سینیٹ میں دستور کے آرٹیکل 153 کا ترمیمی بل 2025 ، اور سینیٹر ہمایوں مہند نے ذہنی صحت ترمیمی بل 2025 پیش کیا، یہ تمام بل بھی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیے گئے۔

علاوہ ازیں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سینیٹ اجلاس میں قومی انتظام برائے قدرتی آفات ترمیمی بل 2025، سینیٹر ہمایوں مہمند نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل 2025 اور سینیٹر فاروق حامد نائیک نے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلر ترمیمی بل 2025 پیش کیے جنہیں قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلر ترمیمی بل 2025 پیش کرنے پر کہا کہ اپوزیشن اس بل کی شدید مذمت کرتی ہے، نومبر میں انتخابات ہورہے ہیں، اس اسٹیج پر بل لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بل کا مقصد نوجوانوں وکیلوں کو آؤٹ کرنا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بھی لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلر ترمیمی بل 2025 پر تنقدی کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل غیر ضروری ہے، اس کو پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ججز وہ بن جاتے ہیں جنہیں وکالت کرتے ہوئے کیسز نہیں ملتے۔

دریں اثنا سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ تجارتی تنظیمیں ثانوی ترمیمی بل 2025 متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری امتناع ازدواج کم عمری بل 2025 پیش کیا جس کی جمیعت علمائے اسلام ( ف ) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مخالفت کردی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پہلے اس بل پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی جائے، اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ 18 سال سے پہلے بچیوں کی شادی نہیں کرسکتے. ہر دو گھنٹے میں خواتین زچگی کے دوران جاں بحق ہوجاتی ہیں.یہ بہت بڑی تعداد ہے اس مسئلے کو سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بل پہلے سینیٹ سے منظور ہوچکا تھا، قومی اسمبلی میں جا کر دم توڑ گیا تھا.اس بل کو قائمہ کمیٹی نے منظور کیا ہے۔سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی اس بل کی مخالفت کرتی ہے اور ایوان سے واک آؤٹ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں بل منظور ہونے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی جائے. جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس بل پر ایوان میں بحث و مباحثہ کرا لیتے ہیں۔امتناع ازدواج کم عمری بل پر سینیٹ میں بحث جاری ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے بھی بل کو اسلامی نظریاتی کونسل بھجوانے کی حمایت کردی۔پی ٹی آئی سینیٹر دوست محمد نے کہا کہ ہمیں یورپی ملک نہ بنایا جائے. بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جائے اس کی رائے کے مطابق بل پر فیصلہ کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل سینیٹر کامران مرتضی قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل 2025 پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ بل 2025 پیش کیا شبلی فراز نے کہ اپوزیشن بار کونسل کمیٹی میں کہ حکومت

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن