اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 مئی 2025ء) بھارت میں پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گیارہ افراد گرفتار

پاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام، بھارت میں گیارہ افراد گرفتار

بھارتی حکام نے پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں کم از کم 11 بھارتی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں کی شدید ترین کشیدگی کے بعد عمل میں آئی ہیں۔

مقامی میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں دونوں ممالک کے مابین جھڑپوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لڑائی 22 اپریل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کا الزام نئی دہلی نے اسلام آباد پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کی ریاستوں سے نو مبینہ ’’جاسوسوں‘‘ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس گورو یادیو نے پیر کے روز بتایا کہ ان کی ٹیم نے دو افراد کو حساس فوجی معلومات افشاء کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان دونوں افراد کے خلاف خفیہ معلومات پر کارروائی کی گئی۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں افراد پاکستانی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں سے براہِ راست رابطے میں تھے اور انہوں نے بھارتی مسلح افواج سے متعلق اہم معلومات پاکستان منتقل کیں۔ ان میں خاص طور پر چھ اور سات مئی کی درمیانی شب نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کے اندر کیے گئے مبینہ فضائی حملوں سے متعلق معلومات شامل تھیں۔

ہریانہ میں پولیس نے گزشتہ ہفتے ایک خاتون ٹریول بلاگر کو بھی گرفتار کیا ہے، جس پر بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق مذکورہ خاتون کم از کم دو بار پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں اور وہاں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار سے ان کے رابطے رہے ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں ایک طالبعلم، ایک سکیورٹی گارڈ اور ایک تاجر بھی شامل ہے۔

’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق اب تک 11 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد کو سوشل میڈیا، مالی فوائد، جھوٹے وعدوں، میسیجنگ ایپس اور ذاتی دوروں کے ذریعے جاسوسی کے نیٹ ورک میں شامل کیا گیا۔

یہ گرفتاریاں بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 کے بعد سب سے سنگین کشیدگی کے فوراً بعد عمل میں آئی ہیں۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین میزائل، ڈرون اور توپ خانے کے حملوں پر مشتمل چار روزہ شدید جھڑپوں کے بعد جنگ کے خطرے کو بھانپتے ہوئے جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔
شکور رحیم اے ایف پی کے ساتھ
ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان کے لیے کے الزام میں جاسوسی کے کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی

19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ

زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if

— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026

یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔

ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی

پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو