رواں مالی سال حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2024-25 کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا سالانہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.6 فیصد کے مقررہ ہدف کے بجائے 2.68 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق سیکریٹری منصوبہ بندی کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال فی کس آمدنی 1840 ڈالر رہی اور موجودہ مالی سال معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر رہا ہے۔
رواں مالی سال 2024-25 کے دوران زراعت، جنگلات اور فشریز میں 0.56 فیصد کا اضافہ ہوا۔ صنعتی نمو میں 4.77 فیصد اور خدمات میں 2.91 فیصد گروتھ رہی ہے۔ بجلی، گیس اور پانی کی گروتھ 28.88 فیصد رہی جبکہ چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.81 فیصد اضافہ ہوا۔
تعمیرات کے شعبے میں 6.61 فیصد گروتھ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران فصلوں کی پیداوار میں 6.82 فیصد کی کمی ہوئی، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.53 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ڈی پی گروتھ رواں مالی سال
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔