گیس مہنگی کر کے عوام کی جیبوں سے اضافی 890 ارب روپے نکالنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی 2025ء ) گیس مہنگی کر کے عوام کی جیبوں سے اضافی 890 ارب روپے نکالنے کا فیصلہ، اوگرا کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران گیس صارفین کیلئے گیس کے ٹیرف میں تقریباً 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے پنجاب، خیبر پختونخواہ، اسلام آباد کے صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں اضافہ اور سندھ، بلوچستان کے لیے گیس کی قیمت میں کمی کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اوگرا نے سوئی سدرن اور ناردرن گیس کمپنیوں کے لیے گیس نرخوں میں ردوبدل کی منظوری دی ہے، گیس نرخوں میں اضافے اور کمی کی حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کردی گئی ہے، اوگرا نے اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخواہ کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے گیس 116 روپے 90 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کرنے کی منظوری دی ہے۔(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس سستی کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان دونوں صوبوں کو گیس فراہم کرنے کی ذمہ دار سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے گیس 103 روپے 95 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو سستی کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس حوالے سے حتمی نوٹی فکیشن وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ سوئی ناردرن کے نرخ میں اضافہ آر ایل این جی کی درآمد میں اضافے کے باعث ہوا، اوگرا کی جانب سے گیس مینجمنٹ سے متعلق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کا معاملہ وفاق کوبھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے، اوگرا نے وفاقی حکومت کو کیٹیگری کے لحاظ سے گیس کی قیمتیں مقرر کرنے کی سفارش کی ہے، اوگرا نے گیس کے نرخوں میں ردو بدل کی سفارش مالی سال 2025/26ء کے شارٹ فال کو مدنظر رکھ مرتب کی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی منظوری دی کے لیے گیس اوگرا نے کرنے کی گئی ہے
پڑھیں:
سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سیکریٹریٹ نے چینی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 95 ملین (9 کروڑ 50 لاکھ) روپے کی لاگت سے ایک بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق کابینہ ڈویژن اس کی فوری ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے اہم سرکاری مصروفیات منسوخ کرنا پڑیں۔
یہ نئی ٹویوٹا لینڈ کروزر 3500 سی سی گاڑی پہلے سے موجود ایسی گاڑیوں کے پول اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جو مختلف سرکاری محکموں نے حملوں کی زد میں آنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے یا تو خریدی ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ زیادہ خطرات کی وجہ سے چینی شہریوں کو بغیر بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑی صرف چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خریدی جا رہی ہے، جن کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس، ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم
حکومت پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42-سی (vii) کا نفاذ کرتے ہوئے مقامی اسمبلر کے ڈیلر سے براہ راست معاہدے کے ذریعے یہ گاڑی خریدے گی۔سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے مطلوبہ فنڈز موجود نہیں تھے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 58.3 ملین روپے منتقل کرکے 30 جون تک آرڈر دینے کا انتظام کیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے آرڈر نہیں دیا جا سکا۔
مزید :