حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ شہیدِ ملت کی عوامی خدمت کا بے لوث ورثہ آج بھی لوگوں کیلئے مشعلِ راہ ہے جو ہر آزمائش میں انکو حوصلہ دیتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مولوی محمد فاروق کو آج انکی 35ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے اور مرحوم کی گراں قدر سیاسی، سماجی، دینی اور ملی خدمات کو یاد کیا جارہا ہے۔ ایسے میں میرواعظ کشمیر عمر فاروق نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں مرحوم مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کو یاد کرتے ہوئے جذباتی انداز میں لکھا ہے کہ 21 مئی ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے اور دردناک یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ میرواعظ مولوی محمد فاروق کو آج ہی کے دن بندوق برداروں نے ہم سے چھین لیا تھا، ان کے سوگواروں پر گولیاں برسائی گئیں جن میں 70 افراد شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی 35 برس گزرنے کے باوجود ان کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا شدت سے محسوس ہوتا ہے، ان کی رہنمائی کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہیدِ ملت کی عوامی خدمت کا بے لوث ورثہ آج بھی لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہے جو ہر آزمائش میں ان کو حوصلہ دیتا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ حسب توقع انہیں ایک بار پھر حکام کی جانب سے عیدگاہ سرینگر میں واقع شہداء کے قبرستان جانے سے روکا گیا، جہاں ہم شہیدِ ملت اور اپنے عزیز شہیدِ حریت خواجہ عبدالغنی لون جو آج ہی کے دن 23 برس قبل شہید ہوئے اور شہدائے کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے سیاسی وژن اور مسئلہ کشمیر کے پرامن مذاکرات کے ذریعہ حل پر یقین کو آج دنیا ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام کے واحد راستے کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ ان دونوں قائدین کی سیاسی بصیرت ان کا مکالمے کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کے حل پر یقین جسے انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے لئے غیر یقینی صورتحال کے خاتمے اور پورے خطے میں امن کے قیام کا ذریعہ سمجھا۔ آج دنیا اسے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دے رہی ہے، امید ہے کہ بھارت اور پاکستان اس آواز پر کان دھریں گے۔ میرواعظ عمر فاروق نے اس دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات امن و استحکام کا واحد راستہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر فاروق نے کہا کہ انہوں نے کشمیر کے

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان