مقبوضہ کشمیر میں مزید چار کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے ”این آئی اے” نے پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس اور مقامی پولیس کی مدد سے ضلع پلوامہ میں پامپور کے علاقے فرستہ بل میں اویس فیروز میر کی کئی مرلے کی زمین ضبط کر لی۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ نے مقامی آبادی کی جائیدادوں پر قبضے کی مہم کو تیز کرتے ہوئے مزید چار کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے ”این آئی اے” نے پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس اور مقامی پولیس کی مدد سے ضلع پلوامہ میں پامپور کے علاقے فرستہ بل میں اویس فیروز میر کی کئی مرلے کی زمین ضبط کر لی۔ بھارتی پولیس نے بتایا کہ اویس فیروز میر کے خلاف پامپور پولیس سٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت مقدمہ درج ہے۔ دریں اثناء بھارتی حکام نے ضلع بارہمولہ میں نوپورہ تجر کے رہائشی ارشد احمد تیلی اور سوپور کے علاقے ہارون کے فردوس احمد ڈار اور نذیر احمد ڈار کی 29 مرلہ اراضی بھی ضبط کر لی ہے۔ یہ ضبطگی پولیس اسٹیشن سوپور میں ان کے خلاف درج ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ یہ پالیسی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ مقامی آبادی کو معاشی طور پر کمزور کیا جائے اور بھارت کے ہندو شہریوں کو علاقے میں آباد کر کے خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔