Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:14:10 GMT

درآمدی گاڑیاں سستی، مقامی آٹو انڈسٹری خطرے میں؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

درآمدی گاڑیاں سستی، مقامی آٹو انڈسٹری خطرے میں؟

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندی ختم کی جائے، اور اب تین سے پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستانی صارفین کو سستی، جدید اور لگژری گاڑیاں میسر آئیں گی، جو اس وقت مقامی مارکیٹ میں مہنگے داموں دستیاب ہیں۔ ایک درآمدکنندہ کے مطابق،660 سی سی کی درآمدی گاڑی اس وقت 20 سے 22 لاکھ روپے میں دستیاب ہے جبکہ اسی کیٹیگری کی مقامی گاڑی 25 لاکھ سے کم قیمت میں نہیں ملتی۔

تاہم مقامی آٹو مینوفیکچررز نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر درآمدی گاڑیوں پر پابندیاں نرم کی گئیں تو مقامی آٹو انڈسٹری شدید متاثر ہوگی، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

آٹو انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو دانشمندانہ فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ ایک طرف صارفین کو بہتر آپشنز میسر آئیں، اور دوسری جانب مقامی صنعت اور اس سے وابستہ روزگار بھی محفوظ رہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف معیشت بلکہ پاکستان کی صنعتی خودکفالت کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ بجٹ سے قبل حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر متوازن پالیسی اختیار کرے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم