کے پی حکومت کا صحت کارڈ کے بعد عوام کو ایک اور بڑا ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کارڈ کے بعد عوام کو ایک اور بڑی ریلیف فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کے پی حکومت نے صحت کارڈ کے بعد عوام کو ایک اور بڑی ریلیف فراہم کرتے ہوئے صوبے بھر کے تمام شہریوں کے لیے لائف انشورنس سکیم متعارف کرانے کی منظوری دی ہے۔
اس لائف انشورنس سکیم پر سالانہ 4.
60 سال سے کم عمر میں انتقال کرنے والے افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر میں وفات پانے والے افراد کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
اس سکیم کا بنیادی مقصد گھر کے سربراہ کے انتقال کی صورت میں متاثرہ خاندان کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنا ہے کیونکہ اکثر خاندان، گھر کے کفیل کی وفات کے بعد شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنا کر عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔