اسلام آباد — حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے تحت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے، جو یکم جولائی 2025 سے نافذالعمل ہو چکی ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد مقامی آٹو مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا، قیمتوں میں کمی لانا اور صارفین کو متبادل آپشنز فراہم کرنا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق 1300 سی سی سے 1500 سی سی تک انجن کپیسٹی والی استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے صرف متوسط یا خوشحال طبقہ ہی فائدہ اٹھا سکے گا کیونکہ عام عوام کی ضرورت چھوٹی یعنی 660 سی سی سے 1000 سی سی گاڑیاں ہیں، جن پر کوئی بڑی رعایت نہیں دی گئی۔
گاڑیوں کے ڈیلرز اور آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق 15 سے 25 لاکھ روپے بجٹ رکھنے والے خریداروں کے لیے مارکیٹ میں اب بھی کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق، پہلی بار کمرشل امپورٹ کی اجازت دی جا رہی ہے اور اب پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد بھی ممکن ہو گی۔
دوسری طرف، مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عام صارفین کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ چھوٹی گاڑیاں پہلے ہی ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
کار ڈیلر حارث قاسم کا کہنا ہے کہ ’’درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی خوش آئند ہے، لیکن جب تک چھوٹی گاڑیوں پر ریلیف نہیں دیا جاتا، یہ پالیسی عام آدمی کے لیے صرف کاغذی فائدہ ہی ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت واقعی آٹو سیکٹر میں اصلاحات لانا چاہتی ہے تو اسے چھوٹی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں واضح کمی، مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں استحکام اور پیداوار کے عمل کو سستا بنانے پر توجہ دینا ہو گی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گاڑیوں پر کے مطابق پر ٹیکس

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا