جنگ کے دوران چین پاکستان کو بھارتی عسکری تنصیبات کی لائیو معلومات فراہم کررہا تھا: بھارتی فوج کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی فوج نے پاک بھارت جنگ میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دفاعی نظام کو فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جب کہ ڈپٹی آرمی چیف نے جنگ میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارت کو جنگ کے دوران نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور ترکی سے بھی چیلنجز کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق، چین پاکستان کو بھارتی عسکری تنصیبات سے متعلق براہ راست معلومات فراہم کر رہا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے کہا کہ جب ڈی جی ایم او سطح پر مذاکرات ہو رہے تھے، پاکستان نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ بھارت کا کون سا شعبہ تیار ہے اور کارروائی کے لیے کھڑا ہے—اور یہ معلومات چین سے فراہم کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن نہیں، کیونکہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کو ملنے والے 81 فیصد اسلحہ و آلات چین سے حاصل کیے گئے۔
ان کے بقول، چین اپنے ہتھیاروں کو حقیقی جنگی حالات میں ٹیسٹ کر رہا تھا، جس سے پاکستان ایک طرح کی “لائیو لیبارٹری” بن گیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کو مستقبل میں اس صورتِ حال سے محتاط رہنا ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت کو C4ISR (کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹرز، انٹیلیجنس، اور سرویلینس) اور سول-ملٹری فیوژن کے شعبوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہ کسی بھی فوجی آپریشن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترکی نے بھی پاکستان کو جنگ کے دوران بھرپور معاونت فراہم کی۔ ان کے مطابق، ترکی کے بیرکتار ڈرونز اور دیگر جدید ڈرونز نہ صرف میدانِ جنگ میں استعمال ہوئے بلکہ ان کے ساتھ ترک ماہرین بھی موجود تھے۔
بھارتی فوج کے نائب سربراہ نے اپنی فوج کو ان تمام تجربات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے ملک کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر جدید بنانے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی چین کی جانب سے کسی بھی قسم کے فعال جنگی کردار کے بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کو کہ بھارت کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :