سانحہ خضدار کے حوالے سے ہم جو کہہ رہے ہیں،اُس کا ثبوت دیں گے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خضدار واقعے پر ہم جو کہہ رہے ہیں، اُس کا ثبوت دیں گے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے بھارتی پراکسی کے طور پر کام کررہی ہے۔خضدار واقعے پر ہم جو کہہ رہے ہیں اس کا ثبوت دیں گے، بھارت پیسہ دیتا ہے، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے یہاں خونریزی کرتی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 9 لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے، ہم کہہ رہے ہیں کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کرائی جائے۔حالیہ پاک ،بھارت جنگ میں ہم نے 3سے 4 دن بہت تحمل کا مظاہرہ کیا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 30 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہہ رہے ہیں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔