19 مئی کو میرعلی میں مبینہ ڈرون حملے میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج ملوث نکلے: پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
پاک فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں 19 مئی کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تحقیقات جاری ہیں. سیکیورٹی فورسز پر الزامات بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہیں. ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ ڈرون حملے میں بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والے فتنہ الخوارج ملوث ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں 19مئی 2025 کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں بدقسمتی سے کچھ شہری جانوں کا ضیاع ہوا.
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر ریلیف حاجی نیک محمد داوڑ نے شمالی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے میں 3 بچوں کی موت اور خواتین کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کی تھی، جب کہ مقامی افراد نے واقعے کے خلاف دھرنا دے دیا تھا۔ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ مبینہ واقعہ ضلع میر علی تحصیل کے ہرمز گاؤں میں پیش آیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کے فلور پر واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ ہر قسم کے آپریشن اور جنگی کارروائیوں کو شہری آبادیوں سے دور رکھا جائے. تاکہ عام عوام، بالخصوص معصوم خواتین اور بچوں کو نقصان نہ پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج بے بنیاد نے والے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔