اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، 100 انڈکس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس نئے تاریخی آسمان پر، 100 انڈیکس نے 120410 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اندازوں کے عین مطابق 1 لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی تاریخی سطح عبور کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا پہلا گرین سکوک بانڈ لانچ، معیشت کی بحالی پر وزیر خزانہ کا اظہار اطمینان
گزشتہ کاروباری ہفتہ میں سرمایہ کاروں اور اسٹاک ایکسچینج ماہرین نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ اس کاروباری ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج یہ تاریخی سنگ میل عبور کر لے گا۔
اس وقت تمام اعشاریے مثبت ہیں
اسٹاک مارکیٹ ایکسپرٹ شہریار بٹ کے مطابق اس وقت تمام اعشاریے مثبت ہیں جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ اس ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ یہ سنگ میل عبور کر لے گا ایسا ہی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 2.
فی کس آمدنی
شہریار بٹ کے مطابق فی کس آمدنی میں 9.75 فیصد اضافے کے ساتھ 1,824 ڈالر کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جو معیشت کی بحالی اور قوت خرید میں بہتری کی علامت ہے۔
ریاست کی بہتر پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ سرمایہ کاروں کا اس وقت اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد ہے، اور آنے والے عرصے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج امریکی ڈالر تاریخی بلندی شہریار بٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج امریکی ڈالر تاریخی بلندی شہریار بٹ اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔