سینیٹ میں سول کورٹس ترمیمی بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
سینیٹ نے سول کورٹس ترمیمی بل منظور کر لیا، بل وزیرِ مملکت شذرہ منصب نے منظوری کےلیے پیش کیا۔
اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیرِ مملکت کو علم ہی نہیں کہ بل میں ہے کیا، بہتر ہوتا کہ بل کی منظوری کے لیے وزیر قانون ایوان میں موجود ہوتے۔
اس کے علاوہ سینیٹ میں سول سرونٹس ترمیمی بل بھی شذرہ منصب کی جانب سے پیش کیا، جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
سینیٹ میں قرارداد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کی۔
شذرہ منصب نے کہا کہ بل سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق ہے۔
علاوہ ازیں سینیٹ میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے پیش کیا۔
اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل کو بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
شبلی فراز نے کہا کہ ہم اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل کی مخالفت کریں گے۔
پاکستان بحریہ ترمیمی بل سینیٹ میں شذرہ منصب نے پیش کیا، پاکستان بحریہ ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹ میں پیش کیا پیش کی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔