ایف آئی اے کی عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، 16 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
ایف آئی اے ملتان نے عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کر کے لاہور اور ملتان سے 16 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پاکستان میں عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک پکڑا گیا،21 ملزمان کو گرفتار کرلیے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق 7 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل کردیا گیا، دیگر 9 ملزمان ابھی بھی جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔
عالمی ہیکنگ نیٹ ورک کا سرغنہ رمیض شہزاد تاحال گرفتار نہ کیا جاسکا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تحقیقات کی روشنی میں 30 سے زائد ویب سائٹس بلاک کردیں گئیں، گرفتار گروہ کو امریکی اور ڈچ ایجینسیز کی خفیہ رپورٹس پر گرفتار کیا گیا۔
ملزمان دنیا بھر کی مختلف کمپنیوں کے کروڑوں ڈالر ہیک کرچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عالمی سائبر نیٹ ورک
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔