ٹوکیو: جاپان میں پولیس نے ایک سابق ٹیکسی ڈرائیور کو نشہ آور دوا دے کر خواتین سے زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس شخص کے قبضے سے تقریباً 3,000 ویڈیوز اور تصاویر ملی ہیں، جن میں وہ مبینہ طور پر 50 سے زائد خواتین پر جنسی حملے کرتا دکھائی دیتا ہے۔

پولیس کے مطابق، 54 سالہ ملزم نے گزشتہ سال ایک 20 سالہ خاتون کو نیند کی گولیاں دے کر بے ہوش کیا، پھر اسے اپنے گھر لے گیا اور غیر اخلاقی حرکتیں کر کے ان کی ویڈیو بھی بنائی۔

پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کی تصدیق متاثرہ خاتون کے بالوں میں سلیپنگ پلز کی موجودگی سے ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ویڈیوز اور تصاویر کا ریکارڈ 2008 سے موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ جرم کئی سالوں سے جاری تھا۔

ملزم کو اکتوبر 2024 میں ایک اور خاتون کو نشہ دے کر 40,000 ین (تقریباً 280 امریکی ڈالر) کی رقم چرانے کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ اسے دسمبر میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا، اور اب اسے ایک نئے مقدمے میں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس نے ملزم پر غیر رضامندانہ جنسی عمل اور جنسی مواد کی غیر قانونی فلم بندی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار