راولپنڈی:

شہری کو اغوا کر کے رہائی کے لیے تاوان طلب کرنے والے راولپنڈی اور اسلام آباد کے اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے پولیس اہلکاروں نے مل کر شہری کو اغوا کیا اور تاوان طلب کیا، ایکسائیز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی خاتون آفیسر نے بروقت دبنگ کارروائی کرتے ہوئے تاوان کی رقم وصول کرنے کے لیے آنے والے پولیس اہلکار کو قابو کرکے راولپنڈی پولیس کے حوالے کردیا۔

کارروائی کے وقت دیگر اہلکار باقی مغویوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار کا سخت نوٹس راولپڈی پولیس کے اہلکار سمیت دیگر دو ملزمان کہ گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ 

حکام کے مطابق راولپنڈی کے نجی ہوٹل کے بار  سے پرمٹ ہولڈر شراب لیکر نکلے تو تھانہ سول لائن کے علاقے میں پولیس عملے  نے انھیں روکا اور پرمٹ و قانونی دستاویزات دیکھانے کے باوجود ایک نہ سنی اور اسی  کی گاڑی میں بیٹھ کر نامعلوم مقام پر لے گیے۔

اسی دوران کچھ فاصلے پرمٹ ہولڈرز و  ایک مغوی کے بیٹے و عزیزوں  نے والد و ساتھیوں کے اچانک غائب ہونے پر پولیس ایمرجنسی ون فائیو اور آئی جی کمپلینٹ سیل نمبر پر کال کی۔ ساتھ ہی مغویان پرومٹ ہولڈر کا بیٹا و رشتہ دار ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول آفس پہنچ گئے اور ڈائریکٹر ایکسائز راولپنڈی کو بھی اطلاع دی باقائدہ پرمٹ و کاغذات ہونے  کے باوجود پولیس  والد وغیرہ کو لے گئی ہے۔

ڈائریکٹر ایکسائز راولپنڈی نے لیڈی انسپکٹر کی سربراہی میں فوری طور پر سی پی او راولپنڈی کے نوٹس لانے کی ہدایات کیں جس پر تمام صورتحال سے راولپنڈی پولیس حکام کو آگاہ کیا گیا تو ایکسائیز ٹیم کے ساتھ راولپنڈی پولیس کے ایک آفیسر کی سربراہی میں بھی ٹیم تعینات کردی گی ۔

اسی دوران پرمٹ ہولڈر کو اغوا کرنے والوں نے ایک مغوی نے اپنے نمبر سے بیٹے کو کال کرکے  تین لاکھ روپے کا بندوبست کرنے کا کہا، معاملہ گھمبیر پاکر ایکسائز و پولیس کی ٹیم نے ڈرامائی انداز میں رقم کا بندوبست ہونے کا کہہ کر اغوا کنندگان کو ڈیل پر راضی کیا۔

حکام کے مطابق اغوا کنندگان پہلے پی ڈبلیو ڈی اسلام آباد پھر اسکیم تھری اور ہر تھوڑے وقفے کے بعد مقام تبدیل کرکے وہاں بلواتے رھےم آخری مرتبہ  گلزار قائد بلوایا لیکن پھر اچانک ایئرپورٹ روڈ پر مغوی ہے بیٹے کو رکنے کا کہا اور ایک شخص رقم لینے آیا جبکہ دیگر سامنے نہ آئے۔

ایکسائز و پولیس  ٹیم اور مغوی کے رشتہ داروں نے مزکورہ شخص کو قابو کرلیا جو مسلح نکلا اور اپنا تعارف اسلام آباد پولیس کی  ڈولفن فورس کے اہلکار کی حیثیت سے کروایا۔ جس پر ملزم کو تھانہ سول لائن منتقل کردیا گیا۔

دوران تفتیش ملزم نے تھانہ صادق آباد کے اہلکار ہونے کا بھی انکشاف کیا  اور  کاشی نامی ایک بروکر کابھی بتایا جو سادہ کپڑوں میں خود کو اے ایس آئی ظاہر کرتا یے۔

دوسری جانب ساتھی کو قابو ہوتے دیکھ  کر دیگر تینوں ملزمان مغوی کو گاڑی اور سامان سمیت چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار نے نوٹس لیکر  فرار اہلکاروں و ملزمان کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے جس کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مارنے میں مصروف ہے۔

ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا ایکسپریس کے رابطے پر کہناتھاکہ سنگین واقعہ کا مقدمہ درج کیا جارھا ہے ایسے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے اہلکار کو اغوا کے لیے

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار