راولپنڈی: الیکڑانک سگریٹ میں استعمال ہونے والا لیکویڈ اسکول میں پینے سے طالبہ بے ہوش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد کے علاقے میں 7ویں جماعت کی طالبہ الیکڑانک سگریٹ میں استعمال ہونے والا (فلیورڈ لیکویڈ) اسکول لے آئی جسے مبینہ طور پر پینے سے ایک طالبہ بے ہوش ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق اسکول انتظامیہ نے لیکویڈ اور چھوٹا چاقو تحویل میں لیکر والدین کو طلب کرکے شکایت کی تو انھوں نے اسکول پر دھاوا بول دیا۔
اسکول منتظم کی درخواست پر پولیس نے اسکول پر دھاوا بولنے والوں پر مقدمہ درج کرلیا، مدعیہ میمونہ عباسی نے کہا کہ دختران اسلام سکنڈری سکول خالص بچیوں کی تعلیم کا ارادہ ہے، 19 مئی کو سکول کی ساتویں جماعت کی طالبہ بیگ میں ایک چھوٹا چاقو اور ایک لیکویڈ کی بوتل اسکول لائی، جسکے پینے سے طالبات بے ہوش ہوگئیں جس پر اس کے والدین کو اسکول بلایا۔
مقدمے کے متن کے مطابق 20 مئی کو اسکول میں موجود تھی کہ اچانک تین مرد تین خواتین اور ایک بچی میرے دفتر آگئے، ان میں سے ایک سکول کی طالبہ بھی رھی تھی نے مجھ پر تشدد شروع کردیا کپڑے پھاڑ ڈالے اور پیٹ میں لاتیں ماریں۔
ایف آئی آر کے مطابق دیگر مرد سکول میں سامان کی توڑ پھوڑ کرتے رہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، اس سے پہلے فون پر بھی دھمکیاں دیں، تمام واقعہ کے ثبوت اور سی سی ٹی و وڈیو فٹیجز بھی موجود ہیں۔
ایس ایچ او صادق آباد احسن تنویر کیانی نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تفتیش میں مصروف ہیں۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
13 سالہ طالبعلم کو ’نازیبا تصاویر اور پیغامات‘ بھیجنے والی اسکول ٹیچر گرفتار
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک 22 سالہ پی ای ٹیچر کو مبینہ طور پر ایک 13 سالہ طالبعلم کو نامناسب ٹیکسٹ میسیجز اور تصاویر بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یزمار انجیانس راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی شیرف آفس کے ڈٹیکٹوز نے بدھ کے روز حراست میں لیا۔
رپورٹس کے مطابق انہیں کم عمر کو فحش مواد بھیجنے اور نقصان دہ مواد منتقل کرنے کے الزام میں چارج کیا گیا ہے، جو دونوں سنگین نوعیت کے جرائم ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ٹیچر اس وقت سنٹرل پوائنٹ کرسچن اکیڈمی میں پی ای ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
متاثرہ طالبعلم کی والدہ نے اکتوبر میں پولیس کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے دوران پولیس نے ٹیچر کی جانب سے بھیجے گئے میسیجز اور تصاویر حاصل کرلیں۔ شیرف آفس کے مطابق ملزمہ نے سوال و جواب کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے طالبعلم کو میسیج اور تصویر بھیجی تھی۔
راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی جیل میں رکھا گیا ہے اور ہر الزام پر 5 ہزار ڈالر کے عوض مجموعی طور پر 10 ہزار ڈالر کی ضمانت مقرر کی گئی ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو وہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا پانے کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔
امریکہ میں کم عمر طلبہ کے ساتھ نامناسب رابطے کے الزامات میں اساتذہ کی گرفتاری کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں کئی اساتذہ کو اسی طرح کے جرائم پر گرفتار یا سزا دی گئی ہے۔