خضدار+ اسلام آباد+ لاہور+ کلر سیداں (خبر نگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نیوز رپورٹر+ این این آئی+ نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان کے ضلع خضدار میں زیروپوائنٹ کے قریب سکول کے بچوں کو لے کر جانے والی بس پر بم حملے کے نتیجے میں 3 طالبات سمیت 5 افراد شہید اور 53 زخمی ہوگئے۔ سکول کی بس تباہ ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) خضدار نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے  سکول بس میں سوار3   بچے شہید ہوئے۔  پولیس و فورسز کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خضدار میں سکول بس پر حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید اور متعدد بچے زخمی ہوئے۔ یہ بزدلانہ حملہ بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں سے کروایا۔ سکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج، پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ہر سطح پر قلع قمع کریں گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس بزدلانہ حملے کے منصوبہ ساز، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھارتی حکومت کی اخلاقی پستی اور انسانیت دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا یہ مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔بھارت آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں عبرت ناک شکست کے بعد بلوچستان اور خیبرپی کے میں دہشت، بدامنی پھیلانے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو استعمال کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خضدار میں سکول بس پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بزدلانہ حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ خضدار حملے کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خضدار میں سکول بس پر حملہ کیا گیا جس میں 47 بچے سوار تھے اور اس افسوسناک واقعے میں بچے شہید ہو گئے۔ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اطلاعات تھیں کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم یہ اندازہ نہیں تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بھارت اپنی جنگی شکست چھپانے کے لیے ایسے اقدامات پر اتر آیا ہے اور بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت دہشت گردوں کو پیسہ اور ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔ کسی بلوچ نے پنجابی کو نشانہ نہیں بنایا۔ دہشتگردوں نے پاکستانیوں کو شہید کیا ہے اور اب جب بات بچوں تک پہنچ چکی ہے تو دہشتگردوں سے بدلہ لیا جائے گا اور ان بزدل عناصر کو جہنم واصل کیا جائے گا۔  چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خضدار میں  سکول بس پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دریں اثنا ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان نے بھی واقعہ پر شدید رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خضدار میں بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی دہشتگرد ریاست بھارت میں کی گئی۔ بلوچستان میں بھارتی پراکسیز نے اس بھیانک منصوبے کو انجام دیا۔ آپریشن بنیان مرصوص میں شرمناک ناکامی میدان جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت بلوچستان اور کے پی کے میں پراکسیز سے دہشتگردی کروا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خضدار میں بس پر دہشتگرد حملے میں 3 طالبات شہید ہوئیں جن میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں جبکہ متعدد بچے بھی زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ شدید زخمیوں کو ائیر لفٹ کرکے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ بزدل دہشتگردوں نے خضدار میں سکول بس پر کار بم حملہ کیا ہے۔  بھارتی پراکسیز کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف بھارت کے ایما پر معصوم بچوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ آج کے حملے میں ملوث دہشتگردوں کو چْن چْن کر جہنم واصل کیا جائے گا۔ سی ایم ایچ انتظامیہ کے مطابق خضدار دہشتگرد حملے کے 14زخمی سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیے گئے ہیں جن میں ایک خاتون، ایک مرد اور 12بچے شامل ہے جبکہ بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا افغان عبوری حکومت کو بھی یاد دلاتا ہوں کہ آپ کی سرزمین بار بار ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشتگرد بھارت کی پراکسیز ہیں۔ ریاست سب کچھ کر سکتی ہے اور اب فیصلہ کرنا ہو گا‘ خاموش تماشائی کا کردار نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ خودکش نہیں تھا‘ آئی ای ڈی کا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خضدار سکول بس پر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے سکول بس پر حملہ کر کے درندگی کی حدیں پار کر دیں۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرآصف علی زرداری نے کہا بھارت پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کی حمایت میں ملوث ہے۔ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کا مکمل طور پر قلع قمع کریں گے۔ چین کے سفارت خانے نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ چینی سفیر نے متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں یہ سن کر انتہائی دکھ ہوا کہ بلوچستان میں ایک سکول بس پر دہشت گرد حملہ کیا گیا۔ امریکہ نے سانحہ خضدار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خضدار میں سکول بس پر وحشیانہ حملے کی مذمت میں پاکستانی قیادت کے ساتھ ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خضدار زیرو پوائنٹ کے قریب سکول بس پر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات و صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے سانحہ خضدار پر اپنے سخت رد عمل میں کہا ہے کہ جنگ میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے بھارت نے نہایت گھٹیا حرکت کی ہے۔ خون کا حساب لیا جائے گا اور ہر دہشتگرد کو چن چن کر جہنم رسید کریں گے۔ خضدار بس دھماکے میں کلرسیداں سے تعلق رکھنے والی میٹرک کی طالبہ عیشا سلیم راجہ شہید ہوئیں، اس کے چھوٹے بہن بھائی شدید زخمی ہو گئے۔ طالبہ کی نماز جنازہ آج دن گیارہ بجے کلرسیداں کے گاؤں پلالہ سیداں میں ادا کی جائے گی۔ شہید طالبہ عیشا سلیم راجہ کا تعلق کلرسیداں کے گاؤں پلالہ سیداں سے ہے اور یہ صوبیدار راجہ محمد سلیم کی دختر تھیں جو میٹرک کی طالبہ تھیں۔ شہید بچی کے بہن اور بھائی بھی زخمیوں میں شامل ہیں جن میں کلاس نہم کی سحر سلیم اور کلاس ہفتم کا رافعہ سلیم شامل ہیں جنہیں سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ حادثے میں شہید اور زخمی بہن بھائیوں کا آج آرمی پبلک سکول میں آخری دن تھا، ان کے والد راجہ محمد سلیم کا تبادلہ کھاریاں کینٹ ہو چکا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نے ضلع خضدار میں سکول بس  پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت  کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سکول کے بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا بزدلی اور  بربریت کی انتہا ہے۔ وزیراعظم آفس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خضدار میں سکول بس پر حملہ بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ بھارت اپنے ریاستی ایجنٹوں کے ذریعے بچوںکو نشانہ بنا رہا ہے۔ خضدار حملے میں 3 بچے اور 2 جوان شہید ہوئے جبکہ 53 زخمی ہوئے۔ دہشتگردی کے واقعے میں 39 زخمی بچوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خضدار میں سکول بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے اس کے نتیجے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خضدار میں سکول بس پر دہشتگردوں نے کہ خضدار میں میں کہا معصوم بچوں سی ایم ایچ مذمت کرتے کرتے ہوئے کا اظہار بھارت کے حملے میں کو نشانہ بتایا کہ کے مطابق شہید ہو حملے کی جائے گا دیا گیا کی مذمت بچوں کو زخمی ہو گیا ہے کیا ہے ہے اور بی ایل

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد