خضدار+ اسلام آباد+ لاہور+ کلر سیداں (خبر نگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نیوز رپورٹر+ این این آئی+ نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان کے ضلع خضدار میں زیروپوائنٹ کے قریب سکول کے بچوں کو لے کر جانے والی بس پر بم حملے کے نتیجے میں 3 طالبات سمیت 5 افراد شہید اور 53 زخمی ہوگئے۔ سکول کی بس تباہ ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) خضدار نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے  سکول بس میں سوار3   بچے شہید ہوئے۔  پولیس و فورسز کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خضدار میں سکول بس پر حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید اور متعدد بچے زخمی ہوئے۔ یہ بزدلانہ حملہ بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں سے کروایا۔ سکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج، پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ہر سطح پر قلع قمع کریں گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس بزدلانہ حملے کے منصوبہ ساز، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھارتی حکومت کی اخلاقی پستی اور انسانیت دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا یہ مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔بھارت آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں عبرت ناک شکست کے بعد بلوچستان اور خیبرپی کے میں دہشت، بدامنی پھیلانے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو استعمال کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خضدار میں سکول بس پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بزدلانہ حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ خضدار حملے کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خضدار میں سکول بس پر حملہ کیا گیا جس میں 47 بچے سوار تھے اور اس افسوسناک واقعے میں بچے شہید ہو گئے۔ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اطلاعات تھیں کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم یہ اندازہ نہیں تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بھارت اپنی جنگی شکست چھپانے کے لیے ایسے اقدامات پر اتر آیا ہے اور بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت دہشت گردوں کو پیسہ اور ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔ کسی بلوچ نے پنجابی کو نشانہ نہیں بنایا۔ دہشتگردوں نے پاکستانیوں کو شہید کیا ہے اور اب جب بات بچوں تک پہنچ چکی ہے تو دہشتگردوں سے بدلہ لیا جائے گا اور ان بزدل عناصر کو جہنم واصل کیا جائے گا۔  چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خضدار میں  سکول بس پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دریں اثنا ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان نے بھی واقعہ پر شدید رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خضدار میں بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی دہشتگرد ریاست بھارت میں کی گئی۔ بلوچستان میں بھارتی پراکسیز نے اس بھیانک منصوبے کو انجام دیا۔ آپریشن بنیان مرصوص میں شرمناک ناکامی میدان جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت بلوچستان اور کے پی کے میں پراکسیز سے دہشتگردی کروا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خضدار میں بس پر دہشتگرد حملے میں 3 طالبات شہید ہوئیں جن میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں جبکہ متعدد بچے بھی زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ شدید زخمیوں کو ائیر لفٹ کرکے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ بزدل دہشتگردوں نے خضدار میں سکول بس پر کار بم حملہ کیا ہے۔  بھارتی پراکسیز کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف بھارت کے ایما پر معصوم بچوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ آج کے حملے میں ملوث دہشتگردوں کو چْن چْن کر جہنم واصل کیا جائے گا۔ سی ایم ایچ انتظامیہ کے مطابق خضدار دہشتگرد حملے کے 14زخمی سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیے گئے ہیں جن میں ایک خاتون، ایک مرد اور 12بچے شامل ہے جبکہ بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا افغان عبوری حکومت کو بھی یاد دلاتا ہوں کہ آپ کی سرزمین بار بار ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشتگرد بھارت کی پراکسیز ہیں۔ ریاست سب کچھ کر سکتی ہے اور اب فیصلہ کرنا ہو گا‘ خاموش تماشائی کا کردار نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ خودکش نہیں تھا‘ آئی ای ڈی کا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خضدار سکول بس پر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے سکول بس پر حملہ کر کے درندگی کی حدیں پار کر دیں۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرآصف علی زرداری نے کہا بھارت پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کی حمایت میں ملوث ہے۔ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کا مکمل طور پر قلع قمع کریں گے۔ چین کے سفارت خانے نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ چینی سفیر نے متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں یہ سن کر انتہائی دکھ ہوا کہ بلوچستان میں ایک سکول بس پر دہشت گرد حملہ کیا گیا۔ امریکہ نے سانحہ خضدار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خضدار میں سکول بس پر وحشیانہ حملے کی مذمت میں پاکستانی قیادت کے ساتھ ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خضدار زیرو پوائنٹ کے قریب سکول بس پر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات و صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے سانحہ خضدار پر اپنے سخت رد عمل میں کہا ہے کہ جنگ میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے بھارت نے نہایت گھٹیا حرکت کی ہے۔ خون کا حساب لیا جائے گا اور ہر دہشتگرد کو چن چن کر جہنم رسید کریں گے۔ خضدار بس دھماکے میں کلرسیداں سے تعلق رکھنے والی میٹرک کی طالبہ عیشا سلیم راجہ شہید ہوئیں، اس کے چھوٹے بہن بھائی شدید زخمی ہو گئے۔ طالبہ کی نماز جنازہ آج دن گیارہ بجے کلرسیداں کے گاؤں پلالہ سیداں میں ادا کی جائے گی۔ شہید طالبہ عیشا سلیم راجہ کا تعلق کلرسیداں کے گاؤں پلالہ سیداں سے ہے اور یہ صوبیدار راجہ محمد سلیم کی دختر تھیں جو میٹرک کی طالبہ تھیں۔ شہید بچی کے بہن اور بھائی بھی زخمیوں میں شامل ہیں جن میں کلاس نہم کی سحر سلیم اور کلاس ہفتم کا رافعہ سلیم شامل ہیں جنہیں سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ حادثے میں شہید اور زخمی بہن بھائیوں کا آج آرمی پبلک سکول میں آخری دن تھا، ان کے والد راجہ محمد سلیم کا تبادلہ کھاریاں کینٹ ہو چکا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نے ضلع خضدار میں سکول بس  پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت  کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سکول کے بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا بزدلی اور  بربریت کی انتہا ہے۔ وزیراعظم آفس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خضدار میں سکول بس پر حملہ بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ بھارت اپنے ریاستی ایجنٹوں کے ذریعے بچوںکو نشانہ بنا رہا ہے۔ خضدار حملے میں 3 بچے اور 2 جوان شہید ہوئے جبکہ 53 زخمی ہوئے۔ دہشتگردی کے واقعے میں 39 زخمی بچوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خضدار میں سکول بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے اس کے نتیجے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خضدار میں سکول بس پر دہشتگردوں نے کہ خضدار میں میں کہا معصوم بچوں سی ایم ایچ مذمت کرتے کرتے ہوئے کا اظہار بھارت کے حملے میں کو نشانہ بتایا کہ کے مطابق شہید ہو حملے کی جائے گا دیا گیا کی مذمت بچوں کو زخمی ہو گیا ہے کیا ہے ہے اور بی ایل

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی