خضدار میں اسکول بس پر خودکش حملہ، سکیورٹی ناکامی یا صوبائی حکومت کی نااہلی ؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 مئی 2025ء) بلوچستان کے ضلع خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر ہونے والے خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کردی گئی ہے ۔ مبصرین کہتے ہیں اس حملے کے کئی محرکات ہوسکتے ہیں تاہم اس پہلو کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر سکیورٹی پلان میں خامیاں نہیں ہوتیں اور مؤثر انتظامات کیے جاتے تو اس حملے کو روکا جا سکتا تھا۔
حملے کا مقدمہ مقامی حکام کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں درج کیا گیا ہے ۔اسکول بس حملے میں 4 بچوں سمیت 6 افراد کی ہلاکت اور 40 بچوں کے زخمی ہونے کی سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے ۔ حملے کا مقدمہ مقامی حکام کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں درج کیا گیا ہے ۔ اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے ۔
(جاری ہے)
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسکول بس پر ہونے والے اس حملے کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی تھی۔
وزیراعظم میاں شہبار شریف اور فوجی سربراہ فیلڈ مارشل ، جنرل عاصم منیر اور انٹیلی جنس سربراہان اس حملے کے بعد خصوصی دورے پر کوئٹہ پہنچے ہیں ۔ وزیراعظم کی سربراہی میں کوئٹہ میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں شرکاء کو بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی سمیت دیگر کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں ۔اسکول بس حملے کو مبصرین کس طرح دیکھتے ہیں؟
اسلام آباد میں مقیم سکیورٹی امور کے سینئر تجزیہ کار اور مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹیڈیز ، عبداللہ خان کہتے ہیں تحقیقات کے بغیر اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ پر عائد نہیں ہوسکتی۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''دیکھیں بلوچستان کی جو شورش ہے اس کے کئی محرکات ہیں۔ ہمیں بھارتی پہلگام دعوے کی طرح تحقیقات کے بغیر کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیاجائے کہ خضدار جیسے حساس علاقے میں اتنا بڑا حملہ اس قدر آسانی سے کس طرح ممکن ہوا؟ اس طرح کے حملوں کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امن دشمن عناصر ریاستی رٹ کو کمزور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالیہ شورش کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے عسکریت پسندوں نے بھی اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کرلی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، ''بلوچ لبریشن آرمی یا کسی اور بلوچ کالعدم تنظیم کا اگر اس حملے میں ہاتھ ہے تو وہ جعفر ایکسپریس ٹرین پر ہونے والے حملے کی طرح فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر سکتے تھے لیکن اب تک ایسا کچھ سامنے نہیں آیا ہے ۔
حکومت یہ دعوٰی تو کررہی ہے کہ اس حملے میں بلوچعسکریت پسند ملوث ہیں لیکن میرے خیال میں تحقیقات کے بغیر اس طرح کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا ۔ اگر واقعی حکومت کا موقف درست ہے تو بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر شواہد کی روشنی میں یہ معاملہ اگر بڑھایا جائے تاکہ ابہام دور ہوسکے۔‘‘سکیورٹی خامیوں کے بڑھتے خدشات
بلوچستان کے سیاسی امور کے تجزیہ کار اور سابق صوبائی وزیر سندھ میر خدا بخش مری کہتے ہیں خضدار میں اسکول بس پر حملہ صوبائی حکومت کی ایک واضح ناکامی ظاہر کرتی ہے ۔
ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے بلوچستان حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے الزام باہرکے لوگوں پر لگانا شروع کر دیتی ہے ۔ ملک دشمن تو واقعی یہاں امن تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت بھی تو کچھ نہیں کررہی ۔ سابقہ نگران وزیراعظم انوارالحق اور موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے گھمبیر حالات کے حوالے سے حقائق مسخ کر رہے ہیں ۔
خضدار میں آج ہونے والا حملے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامع تحقیقات کے ذریعے اس صورتحال کی بہتری کے لیے حکمت عملی بنائی جائے ۔ موجودہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے ریاست کو بدنام کر رہی ہے اور اس بے حسی اور غفلت کا فائدہ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو یہاں امن نہیں چاہتے ۔‘‘خدا بخش مری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان کے حوالے سے اب تک جو بھی فیصلے کیے ہیں ان سے قومی مفاد کو نقصان ہی پہنچا ہے۔
ان کے بقول ، ''دیکھیں سیاسی طور پر حکومتی فیصلے اور اقدمات یہاں حالات کی بہتری کے لیے کبھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں ۔ اب تو صوبے میں حالات یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ حکومتی دعووں کے برعکس عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف بغاوت پر اتر آئے ہیں ۔ اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے صوبہ دن بدن عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔‘‘وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کہتے ہیں بلوچستان کے امن کو بھارتی ایماء پر تباہ کیا جا رہا ہے جس کے خلاف حکومت کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ''خضدار میں آج ملک دشمن قوتوں کے آلہ کاروں نے معصوم بچوں کو بربریت کا نشانہ بنایا ہے ۔ ہم اس صورتحال کا تمام زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں ۔
حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر صوبے کے امن کو تباہ کرکے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘بس حملے پر پاکستانی فوج کا موقف کیا ہے؟
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ، آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے بزدلانہ حملے کے ذریعے خضدار میں معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے خیرخواہ نہیں ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت حالیہ جنگ میں ناکامی کے بعد پراکسیز کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختونخواء میں سلامتی کی صورتحال کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے اور ملک دشمن قوتوں کے عزائم جلد ناکام بنا دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ سال نومبر میں بھی پولیس وین پر ہونے والے ایک بم حملے میں مقامی اسکول کی بس متاثر ہوئی تھی اور حملے میں 9 بچے ہلاک جبکہ 29 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ حالیہ حملے کو 2014 ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد دوسرا بڑا حملہ قراردیا گیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پر ہونے والے بلوچستان کے تحقیقات کے اس حملے کی حملے میں کہتے ہیں انہوں نے اسکول بس کے خلاف حملے کے رہے ہیں کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔