ججز نے نہیں کہا کہ عمران خان کو ریلیف دینے پر انہیں نشانہ بنایا گیا، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
ججز نے نہیں کہا کہ عمران خان کو ریلیف دینے پر انہیں نشانہ بنایا گیا، سپریم کورٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ججز ٹرانسفر کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اس قسم کی درخواست سے تو ہائیکورٹ ججز کو بھی شرمندہ کیا گیا ہے، ججز نے تو نہیں کہا کہ عمران خان کو ریلیف دینے کے فیصلے کرنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا، میرے حوالے سے یہ الفاظ استعمال ہوتے تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی۔
جسٹس محمد علی مظہر سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت کی۔
وکیل بانی پی ٹی آئی ادریس اشرف نے دلائل میں کہا کہ ججز کا ٹرانسفر مستقل نہیں عبوری ہوتا ہے، یہ اپنی نوعیت کا منفرد مقدمہ ہے، اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو طرح کے ججز ہیں، تبادلے پر آئے ججز کو اضافی الاونسز ملتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ تبادلہ پر آئے ججز کو کیا الاونسز ملتے ہیں، میری رائے میں تو تبادلے پر آئے ججز کو کوئی اضافی الاونس نہیں ملتا، اگر ملتا ہے تو دکھا دیں، ماضی میں تبادلہ کی معیاد تھی اور 18ویں ترمیم میں معیاد کو نکال دیا گیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیا آئین سازوں کو معیاد دوبارہ شامل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، بھارت میں جج کے تبادلے پر رضامندی بھی نہیں لی جاتی۔
ایڈووکیٹ ادریس اشرف نے کہا کہ دو سال سے کم تبادلہ ہو تو رضامندی ضروری نہیں، قانون کے مطابق خالی سیٹ کے لیے تقرری کی جا سکتی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جب جج کی اسامی خالی نہیں ہوگی تو جج کا تبادلہ کیسے ہوگا اور اب تو جج تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کا ہے۔
کراچی بار کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایگزیکٹو کی وجہ سے سارا مسئلہ پیدا ہوا، ایگزیکٹو نے پورا عمل خفیہ رکھا اور ججز سینارٹی کے معاملے کو ایگزیکٹو نے خراب کیا۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے سوال کیا کہ ججز ٹرانسفر آئینی اختیار ہے تو ایگزیکٹو نے کیسے سینارٹی خراب کی؟
جسٹس شاہد بلال حسن نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست کا پیراگراف نمبر چار پڑھیں آپ نے لکھا کیا ہے، کیا ملکی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر نے کبھی ایسی درخواست دائر کی ہے؟
ایڈووکیٹ ادریس اشرف نے کہا کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دباؤ قبول نہ کرنے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا، یہ بھی لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دینے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ میرا دل تو اس درخواست کو جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کا ہے، درخواست قابل سماعت ہونے یا جرمانہ کرنے کی طرف نہیں جا رہا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اس قسم کی درخواست سے تو ہائیکورٹ ججز کو بھی شرمندہ کیا گیا ہے، ججز نے تو نہیں کہا کہ عمران خان کو ریلیف دینے کے فیصلے کرنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا، میرے حوالے سے یہ الفاظ استعمال ہوتے تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی۔
وکیل ادریس اشرف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں سینیئر وکیل شعیب شاہین ہیں، میں نے راجا مقسط کی جانب سے دائر درخواست لکھی ہے، میری تحریر کردہ درخواست میں ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ دلائل مکمل کر چکے ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کیس میں سینیارٹی کا مسلئہ سینٹر ایشو ہے، ٹرانسفر ہوئے ججز کی سینیارٹی سب سے نیچے سے شروع ہونی چاہیے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ٹرانسفر ہوئے دو ججز سینیارٹی لسٹ میں سب سے نیچے ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر 8 جون 2015 کو ایڈیشنل جج بنے تھے، جسٹس سومرو نے 14 اپریل 2023 کو حلف لیا تھا۔ جسٹس محمد آصف کا کیس بڑا دلچسپ ہے، جسٹس محمد آصف نے 20 جنوری 2025 کو حلف لیا تھا، جسٹس محمد آصف اس وقت تک ایڈیشنل جج ہیں۔
جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کا بتایے انہوں نے کب حلف لیا؟
وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے 22 دسمبر 2015 کو حلف لیا تھا، چیف جسٹس آف پاکستان سے سینیارٹی کا معاملہ ڈسکس ہی نہیں کیا گیا، ریکارڈ یہ بتا رہا ہے کہ چیف جسٹس سے سینیارٹی کا معاملہ چھپایا گیا۔
ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی گئی۔ کراچی بار کے وکیل فیصل صدیقی آئندہ سماعت پر بھی دلائل جاری رکھیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگرین ہاؤس گیسز سے درجہ حرارت میں اضافہ، پاکستان کو سالانہ 4 ملین ڈالر کا نقصان گرین ہاؤس گیسز سے درجہ حرارت میں اضافہ، پاکستان کو سالانہ 4 ملین ڈالر کا نقصان جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام، بھارتی صحافی ارناب گوسوامی کے خلاف مقدمہ درج جوہری ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو نتائج پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے: بلاول بھٹو بنوں میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی پاکستان اور آذربائیجان بدعنوانی کے خلاف تعاون کے معاہدے پر متفق بھارت کے سینئر صحافی مودی حکومت پر برس پڑے، پاکستان سے جنگ میں نقصانات کا اعترافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پر انہیں نشانہ بنایا گیا وکیل فیصل صدیقی نے بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ کیا گیا حلف لیا گیا ہے ججز کو
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم