یوم عاشور پر پورے ملک میں مذہبی ہم آہنگی نظر آ رہی ہے: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ یوم عاشور پر پورے ملک میں مذہبی ہم آہنگی نظر آ رہی ہے، فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر سے لاتعلقی اختیار کریں۔فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یوم عاشور قربانی کے جذبے کو سلام کرنے کا دن ہے، پنجاب حکومت نے جلوسوں اور مجالسی کی سکیورٹی کیلئے بھرپور انتظامات کئے ہیں، محرم الحرام پر امن وامان کیلئے ہر ایک کا کردار اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار سائبر پٹرولنگ فورس کو متحرک کیا گیا، پنجاب کی پوری انتظامیہ محرم کے دوران متحرک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محرم میں امن وامان اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے، محرم کیلئے صفائی کے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں، جلوس کے روٹ پر ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگائی گئی ہیں، انتظامات دیکھنے کیلئے مختلف اضلاع کا دورہ کیا، وزیراعلیٰ کیلئے نیک خواہشات کے پیغامات ملے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض، نفرت انگیز مواد کی مانیٹرنگ جاری ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد شیئر کرنے پرم تعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، نفرت انگیز مواد پھیلانے والی 417 ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حفاظتی اقدامات کسی کو دکھانے کیلئے نہیں ہیں، پورے ملک میں مذہبی ہم آہنگی نظر آ رہی ہے، ہمیں ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کرنا ہے، فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر سے لاتعلقی اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔