بی این پی کا خضدار اسکول بس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اپنے بیان میں بی این پی نے کہا کہ اے پی سی بس حملے میں پھول جیسی بچیوں کی شہادت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں خضدار میں سکول بس پر خودکش حملے میں معصوم بچیوں کی شہادت اور 38 سے زائد بچوں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تشدد چاہے جس شکل میں بھی ہو وہ قابل مذمت ہے۔ اے پی سی بس حملے میں پھول جیسی بچیوں کی شہادت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے کر بس حملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائے کہ کون سے عناصر اس میں ملوث ہیں۔ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔ حکومت صرف بلند و بالا دعوے، جھوٹ پر مبنی بیانات دینے میں لگی ہوئی ہے۔ بیان میں شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درج بالا اور لواحقین سے صبر و جمیل عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بس حملے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک