Daily Ausaf:
2026-06-03@00:59:27 GMT

سربلند عالم دین ، امیرالمجاہدین کی عظیم قربانیاں !

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

منافقین ،ملحدین،لنڈے کے لبرلز ،گمراہ مولوی زادوں، ہم جنس پرستوں ، غامدیوں کا گروہ اور قادیانیت زدہ وہ جہاد دشمن خرکار کہ جو گز گز بھر لمبی زبانیں لٹکائے مولویوں کو طعنے دیا کرتے تھے کہ مولوی فتوے دیتے ہیں خود جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اور یہ بھی کہ یہ لوگوں کے بچے مرواتے ہیں اور ان کے اپنے بچے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں،اب نجانے کن بلوں میں جا گھسے ہیں؟ مولانا محمد مسعود ازہر پکے ٹھکے مولوی یعنی جئید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز ترین جہادی قائد بھی ہیں، یہ ایک ایسے جہادی قائد ہیں کہ جن کے دو کڑیل سگے بھتیجے اور ایک جوان سالہ عالم دین بھانجے اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ مسجد سبحان اللہ پر ہونے والے بھارتی حملے میں دس قریبی عزیز و اقارب کی شھادتیں اس کے علاوہ ہیں، ان کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والی ’’نسل نریندر مودی‘‘ الٹی بھی لٹک جائے تب بھی ان کے روشن جہادی کردار اور عظیم قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی، مولانا محمد مسعود ازہر کی اپنے پیاروں کی شہادتوں کے حوالے سے ایمان کو گرماتی ایک تازہ تحریر اس خاکسار تک پہنچی، یہ شاندار تحریر مینارہ نور کی زینت اس لئے بنا رہا ہوں تاکہ قارئین ایک نا مور عالم دین امیر المجاہدین کے جہادی عشق، صبرو استقامت اور اللہ پہ توکل کا راز جان سکیں، یاد رہے کہ میں کوئی ’’خیالی‘‘نہیں، بلکہ حقیقی مولانا ازہر کی بات کر رہا ہوں کہ جن سے دہلی کا نریندر مودی ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر موجود بعض بونے بونے پھٹیچر قسم کے مولوی زادے بھی کانپتے ہیں۔
مولانا لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھرانے کے پانچ معصوم پھولوں کو شہادت عظمیٰ نصیب فرمائی، اِنا لِلہِ و اِنا اِلیہِ رجِعون… والحمد للہ رب العالمین، ہماری جو دو پیاری بیٹیاں شہید ہوئیں، ان میں سے ایک کے ہاں۔ایک ہفتے بعد اور دوسری کے ہاں چار ماہ بعد،.

بچوں کی ولادت تھی،بچے میں روح پڑ جائے تو اس پر شریعت کے کئی احکامات متوجہ ہو جاتے ہیں تو اس طرح قاتل مودی نے ایک ہی خاندان کے سات بچے شہید کر ڈالے۔ اِنا لِلہِ و اِنا اِلیہِ راجِعون…والحمد للہ رب العالمین، باقی انڈیا کے جھوٹے حکمران اور کذاب میڈیا جن با سعادت نامور افراد کی شہادت کا دعویٰ کر رہا ہے وہ زندہ، سلامت اور ایمان و جہاد کے جذبے سے سرشار ہیں۔ آج بات یہ کرنی ہے کہ معصوم بچوں کی شہادت میں کیا حکمت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ الحکیم ہیں اور الرحیم ہیں ان کا کوئی بھی فیصلہ اہل ایمان کے لئے حکمت اور رحمت سے خالی نہیں ہوتا۔معصوم بچوں کی شہادت جو کہ ان کے والدین اور اقارب کے کلیجے جلا دیتی ہے،یہ بھی حکمت اور رحمت سے خالی نہیں۔مکتوب میں جگہ کم ہوتی ہے اس لئے بطور خلاصہ چند نکات عرض خدمت ہیں۔معاشرے میں ایسے خوش نصیب افراد کا موجود ہونا پوری قوم کو زندگی فراہم کرتا ہے۔ چھوٹے معصوم بچے بندہ کی کمزوری ہیں،ان کو دیکھتے ہی میں خود ان جیسا بن جاتا ہوں اور وہ بھی مجھے اپنا ہم عمر سمجھنے لگتے ہیں اور پھر طرفین سے ایسی محبت چھلکتی ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں اپنی اس کمزوری کے لئے میں نے کئی سال تک ایک کتابچہ مستقل ساتھ رکھا کہ اگر میرے کسی بچے کی جدائی ہو جائے تو میں ’’بے صبر‘‘ یا ’’نا شکرا‘‘ نہ بن جائوں،اس کتاب کا نام ہے۔ بردالاکبادعندفقدالاولاد، حضرت حافظ دمشق کی یہ کتاب بے حد ’’پر تاثیر ‘‘ ہے کتاب کے نام کا ترجمہ ہے۔ اولاد کھونے والوں کے لئے کلیجوں کی ٹھنڈک، اس نازک موقع پر بھی یہ کتاب خوب کام آئی ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا نامور افسانہ نگار بھانجا،حقیقت نگاری میں بھی سب کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ما شا اللہ، لا قوۃ الا باللہ۔
اللہ تعالیٰ میری جان سے پیاری باجی جان کو حضرت سیدہ سمیہ شہیدہ رضی اللہ عنہا کے مبارک قدموں میں جگہ اور مقام عطا فرمائے،بی بی جی سچی بات ہے بہت صدمہ ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون اور آپ کی بلند قسمت پر ناز ہے..شکر ہے..اور رشک ہے، والحمد للہ رب العالمین۔ اس زمانے میں،دنیا کے بدترین کافروں کے ہاتھوں سے شہید ہونا۔ ایسا ’’اعزاز‘‘ ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ابوجہل جیسا مودی، فرعون جیسا نیتن یاہو اور میکرون جیسا شیطان،حملہ مودی کا،میزائل یہودی کے اور طیارے فرانس کے اور کامیابی،میری باجی جان کی،پیاری شہیدہ بہن تواضع اور خدمت کی پیکر،میرے مکتوب میں آنے والا ہر وظیفہ،ان کے عمل میں آجاتا تھا،کبھی پیغام بھجواتیں کہ پیارے بھیا آج کے مکتوب نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ایک بار فرمایا،ایسا لگتا ہے آپ کو میرے گھر کے حالات پتہ چل جاتے ہیں تو آپ مکتوب میں حل بتا دیتے ہیں۔ شہادت کی دعا کثرت سے مانگتی تھیں۔ اپنی ساری اولاد کو دین کے لئے وقف کر دیا۔ ان کے چھ بچے تھے اور سب ماشااللہ عالم دین اور ان چھ میں سے پانچ قرآن مجید کے حافظ، ساری اولاد سے بہت پیار تھا مگر چھوٹا بیٹا حد سے زیادہ لاڈلا اور چھوٹی بیٹی ان کی دوست،دونوں کو اپنے ساتھ لے گئیں،بہت کم آمدن میں عزت اور سفید پوشی سے زندگی گزاری،میں ان کو داد دیتا کہ بی بی جی آپ مینجمنٹ کی ماہر ہیں۔ اپنے محترم خاوند کی محدود آمدن میں،سب بچوں کی شادیاں کر لیں۔ اس پر تواضع سے سر جھکا دیتیں،ان کی اسی تواضع کا ایسا بدلہ ملا کہ ہم سب بہن بھائی آج خود کو ان کے قدموں میں محسوس کر رہے ہیں۔
بد نصیب غامدی کہتے ہیں کہ مجاہدین جہاد کا مال لوٹتے ہیں،گجرانوالہ کے ایک بد نصیب نے تو اسی موضوع پر قرآن مجید کی آیت مبارکہ تک کا مذاق اڑایا جبکہ حقیقت یہ کہ میری باجی جان شہیدہ کے خاوند محترم، حافظ محمد جمیل شہید ؒ ،بہاولپور کی غلہ منڈی میں ملازمت کرتے تھے،حساب کتاب اور کھاتہ نویسی کے ماہر تھے،ہماری جماعت کی مساجد کا حساب کتاب بھی وہی دیکھتے تھے۔ کروڑوں کی رقم ان کے ہاتھ اور حساب میں رہتی تھی۔ شہادت کے تین دن بعد خیال آیا کہ ان کے حقوق اور قرضہ جات معلوم کر کے ادا کئے جائیں،غلہ منڈی سے معلوم کیا تو دکان کا مالک رونے لگا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کی شادی پر ایک لاکھ قرضہ لیا تھا،جو ماہانہ تنخواہ میں سے کاٹ کر ادا ہو رہا تھا،اس میں سے تریسٹھ ہزار باقی ہے مگر میں یہ کسی صورت نہیں لوں گا..واہ! حافظ جمیل !اللہ تعالیٰ کا وہ عبادت گزار، امانت دار اور خوبصورت بندہ،اللہ تعالیٰ کی شان!جمیل کو جمال شہادت مل گیا۔’ ’زھراء‘‘ کو ازہار شہادت مل گئی اور ’’حمزہ‘‘ سید الشہدا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قافلے میں جا کھڑا ہوا۔ خوشبودار کچی قبروں کا ایک احاطہ،ایک ہی گھر کی پانچ قبریں،بی بی جی!جنت کے اتنے قریب رہتی تھیں آپ؟

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اللہ تعالی عالم دین کی شہادت بچوں کی کے لئے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا