سربلند عالم دین ، امیرالمجاہدین کی عظیم قربانیاں !
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
منافقین ،ملحدین،لنڈے کے لبرلز ،گمراہ مولوی زادوں، ہم جنس پرستوں ، غامدیوں کا گروہ اور قادیانیت زدہ وہ جہاد دشمن خرکار کہ جو گز گز بھر لمبی زبانیں لٹکائے مولویوں کو طعنے دیا کرتے تھے کہ مولوی فتوے دیتے ہیں خود جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اور یہ بھی کہ یہ لوگوں کے بچے مرواتے ہیں اور ان کے اپنے بچے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں،اب نجانے کن بلوں میں جا گھسے ہیں؟ مولانا محمد مسعود ازہر پکے ٹھکے مولوی یعنی جئید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز ترین جہادی قائد بھی ہیں، یہ ایک ایسے جہادی قائد ہیں کہ جن کے دو کڑیل سگے بھتیجے اور ایک جوان سالہ عالم دین بھانجے اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ مسجد سبحان اللہ پر ہونے والے بھارتی حملے میں دس قریبی عزیز و اقارب کی شھادتیں اس کے علاوہ ہیں، ان کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والی ’’نسل نریندر مودی‘‘ الٹی بھی لٹک جائے تب بھی ان کے روشن جہادی کردار اور عظیم قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی، مولانا محمد مسعود ازہر کی اپنے پیاروں کی شہادتوں کے حوالے سے ایمان کو گرماتی ایک تازہ تحریر اس خاکسار تک پہنچی، یہ شاندار تحریر مینارہ نور کی زینت اس لئے بنا رہا ہوں تاکہ قارئین ایک نا مور عالم دین امیر المجاہدین کے جہادی عشق، صبرو استقامت اور اللہ پہ توکل کا راز جان سکیں، یاد رہے کہ میں کوئی ’’خیالی‘‘نہیں، بلکہ حقیقی مولانا ازہر کی بات کر رہا ہوں کہ جن سے دہلی کا نریندر مودی ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر موجود بعض بونے بونے پھٹیچر قسم کے مولوی زادے بھی کانپتے ہیں۔
مولانا لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھرانے کے پانچ معصوم پھولوں کو شہادت عظمیٰ نصیب فرمائی، اِنا لِلہِ و اِنا اِلیہِ رجِعون… والحمد للہ رب العالمین، ہماری جو دو پیاری بیٹیاں شہید ہوئیں، ان میں سے ایک کے ہاں۔ایک ہفتے بعد اور دوسری کے ہاں چار ماہ بعد،.
اللہ تعالیٰ میری جان سے پیاری باجی جان کو حضرت سیدہ سمیہ شہیدہ رضی اللہ عنہا کے مبارک قدموں میں جگہ اور مقام عطا فرمائے،بی بی جی سچی بات ہے بہت صدمہ ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون اور آپ کی بلند قسمت پر ناز ہے..شکر ہے..اور رشک ہے، والحمد للہ رب العالمین۔ اس زمانے میں،دنیا کے بدترین کافروں کے ہاتھوں سے شہید ہونا۔ ایسا ’’اعزاز‘‘ ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ابوجہل جیسا مودی، فرعون جیسا نیتن یاہو اور میکرون جیسا شیطان،حملہ مودی کا،میزائل یہودی کے اور طیارے فرانس کے اور کامیابی،میری باجی جان کی،پیاری شہیدہ بہن تواضع اور خدمت کی پیکر،میرے مکتوب میں آنے والا ہر وظیفہ،ان کے عمل میں آجاتا تھا،کبھی پیغام بھجواتیں کہ پیارے بھیا آج کے مکتوب نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ایک بار فرمایا،ایسا لگتا ہے آپ کو میرے گھر کے حالات پتہ چل جاتے ہیں تو آپ مکتوب میں حل بتا دیتے ہیں۔ شہادت کی دعا کثرت سے مانگتی تھیں۔ اپنی ساری اولاد کو دین کے لئے وقف کر دیا۔ ان کے چھ بچے تھے اور سب ماشااللہ عالم دین اور ان چھ میں سے پانچ قرآن مجید کے حافظ، ساری اولاد سے بہت پیار تھا مگر چھوٹا بیٹا حد سے زیادہ لاڈلا اور چھوٹی بیٹی ان کی دوست،دونوں کو اپنے ساتھ لے گئیں،بہت کم آمدن میں عزت اور سفید پوشی سے زندگی گزاری،میں ان کو داد دیتا کہ بی بی جی آپ مینجمنٹ کی ماہر ہیں۔ اپنے محترم خاوند کی محدود آمدن میں،سب بچوں کی شادیاں کر لیں۔ اس پر تواضع سے سر جھکا دیتیں،ان کی اسی تواضع کا ایسا بدلہ ملا کہ ہم سب بہن بھائی آج خود کو ان کے قدموں میں محسوس کر رہے ہیں۔
بد نصیب غامدی کہتے ہیں کہ مجاہدین جہاد کا مال لوٹتے ہیں،گجرانوالہ کے ایک بد نصیب نے تو اسی موضوع پر قرآن مجید کی آیت مبارکہ تک کا مذاق اڑایا جبکہ حقیقت یہ کہ میری باجی جان شہیدہ کے خاوند محترم، حافظ محمد جمیل شہید ؒ ،بہاولپور کی غلہ منڈی میں ملازمت کرتے تھے،حساب کتاب اور کھاتہ نویسی کے ماہر تھے،ہماری جماعت کی مساجد کا حساب کتاب بھی وہی دیکھتے تھے۔ کروڑوں کی رقم ان کے ہاتھ اور حساب میں رہتی تھی۔ شہادت کے تین دن بعد خیال آیا کہ ان کے حقوق اور قرضہ جات معلوم کر کے ادا کئے جائیں،غلہ منڈی سے معلوم کیا تو دکان کا مالک رونے لگا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کی شادی پر ایک لاکھ قرضہ لیا تھا،جو ماہانہ تنخواہ میں سے کاٹ کر ادا ہو رہا تھا،اس میں سے تریسٹھ ہزار باقی ہے مگر میں یہ کسی صورت نہیں لوں گا..واہ! حافظ جمیل !اللہ تعالیٰ کا وہ عبادت گزار، امانت دار اور خوبصورت بندہ،اللہ تعالیٰ کی شان!جمیل کو جمال شہادت مل گیا۔’ ’زھراء‘‘ کو ازہار شہادت مل گئی اور ’’حمزہ‘‘ سید الشہدا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قافلے میں جا کھڑا ہوا۔ خوشبودار کچی قبروں کا ایک احاطہ،ایک ہی گھر کی پانچ قبریں،بی بی جی!جنت کے اتنے قریب رہتی تھیں آپ؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اللہ تعالی عالم دین کی شہادت بچوں کی کے لئے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔