الیاس روڈریگیز نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو سے انگریزی ادب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ ایک مؤرخ، محقق اور کہانی نویس ہونے کے ساتھ ساتھ معروف تحقیقی ادارے "دی ہسٹری میکرز" میں ایک محقق اور خاکہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا میں یہودی عجائب خانے میں فائرنگ کے واقعے میں اسرائیل کے سفارتی اہلکار مارے گئے، جبکہ ملزم نے ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور کی شناخت 30 سالہ الیاس روڈریگیز کے نام سے ہوئی ہے، جس کا ماضی میں کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ الیاس روڈریگیز نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو سے انگریزی ادب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ ایک مؤرخ، محقق اور کہانی نویس ہونے کے ساتھ ساتھ معروف تحقیقی ادارے "دی ہسٹری میکرز" میں ایک محقق اور خاکہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔

الیاس امریکی معاشرے کی نمایاں شخصیات پر تحقیق کرتے ہیں اور ان کی تفصیلی سوانحی خاکے مرتب کرتے ہیں۔ "دی ہسٹری میکرز" سے قبل وہ مختلف کمپنیوں کے لیے تخلیقی مواد لکھتے تھے اور بچپن سے ہی تخیلاتی کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا شوق تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔ ابھی واقعے کے محرک سے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ البتہ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے، یہ کارروائی ملزم نے انفرادی طور پر اور غزہ کے حالات کے ردعمل میں کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محقق اور

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار