نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ دورہ چین انتہائی کامیاب رہا، چین نے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کی، پاکستان، چین اور افغانستان کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ خطے سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے، چین کے ساتھ سی پیک ٹو شروع کرنے کی بھی بات ہوئی ہے، چین اس حکومت کے ساتھ سی پیک ٹو کو شروع کرنے کے لیے تیار ہے، چین نے مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کا خصوصی دورہ کیا، منگل کو چینی وفود سے اہم ملاقاتیں کیں، بدھ کے روز پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی، سہ فریقی اجلاس میں افغان مہاجرین، علاقائی صورتحال اور تجارت پر بات کی،19 اپریل کو دورہ کابل کے دوران کیے گئے معاہدوں پر پاکستان میں عملدرآمد ہوچکا ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے اوپر بڑا الزام ہے کہ ہم فیصلے کرتے ہیں مگر عملدرآمد میں تاخیر ہوجاتی ہے، کابل میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی کے ساتھ جو معاہدے کئے اس پر عمل درآمد کرایا، چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 21 مئی 1951 میں پاکستان چین دوستی کا آغاز ہوا، پاک چین دوستی کو دنیا بڑی قدر سے دیکھتی ہے، پاک چائنہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اگلا سیشن اسلام آباد میں ہوگا، چینی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، چینی وزیر خارجہ نے جلد پاکستان آنے کی حامی بھرلی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، 23 اپریل سے 10 مئی تک تقریباً 60 ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا، ہمسایہ ممالک کا بیانہ بننے نہیں دیا، ان کا جھوٹ دنیا پر آشکار کیا، ہمسایہ ملک نے ایف 16 طیارے گرانے کا جھوٹا پروپیگینڈا کیا، ہم نے بھارت کو کہا کہ ہم آپ کی طرح ڈرپوک نہیں، ہم جب حملہ کریں گے تو بتاکر کریں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کا بیانہ پلوامہ کے بعد بنا تھا مگر اس بار ہم نے ناکام بنا دیا، پہلگام واقعے پر ہم نے آزاد تحقیقات کی آفر کی، 18-2017 میں پاکستان میں دہشت گردی ختم ہوچکی تھی، ہمارے اندرونی معاملات کی وجہ سے دہشت گردی واپس آگئی، وزیر خارجہ نے سابق ڈی جی آئی فیض حمید کے دورہ کابل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم شخصیت کابل چائے پینے گئی تھی، ہماری پوری کوشش ہے کہ دہشت گردی ختم ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سہ فریقی اجلاس میں اتفاق کیا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، چین اس حکومت کے ساتھ سی پیک ٹو کو شروع کرنے کے لیے تیار ہے، آئی ایم ایف بیل آؤٹ پر چین کی سپورٹ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پہلی حکومت میں پاک افغان ریل ٹرانزٹ پر کام کیا گیا تھا، پاک افغان ٹرانزٹ میں ہم نے ازبکستان کو بھی شامل کیا تھا، پاک افغان ٹرانزٹ پر چین کے ساتھ بات ہوئی اور وہ اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، پاکستان، ازبکستان اور افغانستان میں ریل ٹرانزٹ پروجیکٹ فائنلائز ہو جائے گا، ون بیلٹ روڈ منصوبے کو بھی افغانستان تک لے جانے کی بات ہوگئی، پشاور ٹو کابل ہائی وے پروجیکٹ پر بھی بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر چین پشاور سے کابل تک ہائی وے پروجیکٹ کو بناتا ہے تو سینٹرل ایشیا کو رسائی آسان ہوگی، اس صورت میں گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، کل جو خضدار میں ہوا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، ان شا اللہ جلد ہی دہشت گردوں کا خطے سے صفایا ہوگا، ان دہشت گردوں کے دن اب گنے جاچکے ہیں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم اپنے پڑوسیوں کو نہیں بدل سکتے، چین میں سفارتی تعلقات سمیت تجارت اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی، ہم نے کہہ دیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغان مہاجرین کو ہم ون ڈاکیومنٹ پر لیکر آرہے ہیں، افغان مہاجرین کو پاکستان آنے کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا دیا جائے گا، جس کی فیس 100 ڈالر ہوگی۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ چین کے پاکستان میں گہرے مفادات ہیں، چین بھی چاہتا ہے کہ پاکستان سمیت خطے سے دہشت گردی ختم ہو، پاکستان، چین اور افغانستان نے بھی اتفاق کیا کہ تینوں ملکوں نے دہشتگردی کو پنپنے نہیں دینا، خواہ وہ کوئی سا بھی گروپ ہو، تینوں ملکوں میں دہشتگردی کیخلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسح ق ڈار نے کہا انہوں نے کہا کہ اور افغانستان پاکستان کی کہا کہ ہم سی پیک ٹو کے ساتھ کے لیے چین نے چین کے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار