(میرعلی واقعہ)پاک فوج پر الزامات بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
واقعے سے متعلق ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اور کارروائی فتنہ الخوارج نے کی
دہشتگرد گروہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال بنا کر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں، آئی ایس پی آرکی وضاحت جاری
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں 19 مئی کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق آئی ایس پی آرنے وضاحت جاری کردی جس میں بعض حلقوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بعض پلیٹ فارمز پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی منفی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے، واقعے سے متعلق ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اور کارروائی فتنہ الخوارج نے کی، جنہیں بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔اپنے بیان میں آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ عوامی ہمدردی حاصل کی جا سکے، بھارتی ایما پر کام کرنے والے عناصر عوام اور فوج میں تفریق ڈالنا چاہتے ہیں لیکن پاک فوج دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔علاوہ ازیں مسلح افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خضدار میں سکول بس پر بزدلانہ حملہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی ہے، ایک اور بزدلانہ اور بھیانک حملے میں جس کی منصوبہ بندی بھارت کی دہشت گرد ریاست نے کی تھی اور بلوچستان میں اس کے پراکسیوں نے اسے انجام دیا اس حملے میں آج خضدار میں سکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں 3 معصوم بچے اور 2 بالغ افراد شہادت کو گلے لگا چکے ہیں اور متعدد بچے زخمی ہوئے ہیں، اس بزدلانہ بھارتی اسپانسرڈ حملے کے منصوبہ سازوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور انجام دینے والوں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا پاک فوج
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔