سی آئی اے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ کا واقعہ؛ شدید زخمی حالت میں خاتون گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
سی آئی اے ہیڈکوارٹرز کے مرکزی دروازے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سی آئی اے کے صدر دفتر کے باہر ایک مشکوک کار کے نہ رکنے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔
واقعہ صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا خاتون کو زخمی حالت میں حراست لے لیا گیا۔ طبی امداد کی فراہمی کے بعد تفتیش کا عمل جاری ہے۔
پولیس نے خاتون کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
فائرنگ کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی تاہم عینی شاہد کا کہنا ہے کہ کار سوار خاتون نے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
سی آئی اے کے ترجمان نے بیان میں کہا: "ہیڈکوارٹرز کے باہر ایک سیکیورٹی واقعہ پیش آیا جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیا۔ مرکزی دروازہ تاحکم ثانی بند ہے۔ مزید تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔"
ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ واقعہ عوامی سلامتی کے لیے کوئی مسلسل خطرہ نہیں رکھتا۔
فوری طور پر اس واقعے کا بدھ کی رات واشنگٹن ڈی سی میں یہودی میوزیم پر فائرنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کے قتل سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا ہیڈکوارٹر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے تقریباً نو میل دور ریاست ورجینیا کے علاقے لینگلی میں واقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی آئی اے
پڑھیں:
اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ
روم؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔ چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔ پولیس نے تحقیقات کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہے کہ اطلاع ہے کہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ اطالوی حکام سے رابطہ میں ہے۔