غزہ کے 94 فیصد ہسپتال تباہ ہوچکے ہیں ، عالمی ادارہ صحت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مئی2025ء)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کے تمام ہسپتالوں میں سے 94 فیصد کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوچکے ہیں اور غزہ کے شمالی حصے میں زخمیوں ، بیماروں اور بھوک سے متاثرہ افراد کو کسی بھی قسم کی طبی امداد کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 19 کام کر رہے ہیں، جن میں وہ ہسپتال بھی شامل ہے جو ہسپتال کے اندر موجود باقی مریضوں کو بنیادی دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔
باقی ماندہ ہسپتال سپلائی کی شدید قلت ،عملے کی کمی، مسلسل عدم تحفظ اور اموات میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں اور بچا کھچا عملہ ناممکن حالات میں کام کر رہا ہے۔(جاری ہے)
غزہ کی پٹی کے تمام ہسپتالوں میں سے کم از کم 94 فیصد تباہ ہو چکے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 18 مارچ 2025 کو غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے طبی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز پراسرائیلی فوج کے 28 حملے ریکارڈ کئے ہیں اور اکتوبر 2023 سے اسرائیلی مسلح افواج کی طرف سے کئے جانے والے ایسے حملوں کی تعداد کم از کم 697 تک پہنچ چکی ہے۔
شمالی غزہ سے طبی سہولیات کی فراہمی کے انفراسٹرکچر کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔ جنوبی غزہ کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔فی الحال غزہ میں تمام ہسپتالوں میں مجموعی طور پر صرف 2000 بستر دستیاب ہیں جو 20 لاکھ سے زائد آبادی جس میں بڑی تعداد میں زخمی بھی شامل ہیں کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہیں ۔اسرائیلی فوج کی مسلسل کارروائیاں اور فوجی موجودگی مریضوں تک رسائی میں بے حد مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اس صورت حال میں عملہ زخمیوں اور مریضوں کی دیکھ بھال سے قاصر ہے اور عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت داروں کو ہسپتالوں تک رسائی حاصل نہیں رہی۔عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کے پاس حفاظتی اقدامات کے ساتھ امداد کی فراہمی کیلئے ایک واضح، اصولی اور موثر منصوبہ موجود ہے یہ ایک ایسا نظام ہے جس نے ماضی میں کام کیا ہے اور اسے جاری رکھنے کے لیے فعال ہونا چاہیے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی ادارہ صحت ہسپتالوں میں غزہ کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :