غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور ظلم اب بند ہوجانا چاہیئے، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
وفود سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نظام مصطفی پارٹی نے کہا کہ 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد 90 سے زائد امدادی ٹرک داخل ہونے کے باجود اسرائیل کا سامان کی تقسیم میں رکاوٹیں ڈالنا ظلم کی انتہا ہے، غزہ کی عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا انسانی اُصولوں کی سنگین خلاف وزری ہے اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے اپنی عیادت کیلئے آنے والے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اورظلم اب بند ہوجانا چاہیئے، ہر دن، ہر رات، ہر لمحہ فلسطینی عوام کیلئے موت کا پیغام لاتا ہے، خوراک، پانی اور دوا کی شدید قلت، لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر ہیں، ہزاروں افراد کو موت کا خطرہ لاحق ہے، غزہ میں ظلم و بربریت، انسانیت کش مظالم کی انتہا ہوگئی ہے، افسوس پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے، مسلم حکمران بھی بیانات کی حد تک محدود ہیں، اسرائیل غزہ میں 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک مسلسل بمباری کرکے نسل کشی کررہا ہے تو دوسری جانب امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر غزہ کی عوام کو بھوک سے بھی مارا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد 90 سے زائد امدادی ٹرک داخل ہونے کے باجود اسرائیل کا سامان کی تقسیم میں رکاوٹیں ڈالنا ظلم کی انتہا ہے، غزہ کی عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا انسانی اُصولوں کی سنگین خلاف وزری ہے، جو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کررہے ہیں وہ انسانیت کے بدترین مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید چند گھنٹوں میں امدادی سامان تقسیم نہ کیا گیا تو ہزاروں افراد جان کی بازی ہار جائیں گے۔ حاجی محمد حنیف طیب نے اسلامی تعاون تنظیم ”او آئی سی“ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں محصور فلسطینی عوام کو خوراک، ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوام کو
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔