سوشل میڈیا اسٹارز کی کمائی پر حکومت کی نظر؛ بجٹ میں یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز پر ٹیکس؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اگر آپ یوٹیوب پر وی لاگ بنا کر یا ٹک ٹاک پر ڈانس کرکے لاکھوں کما رہے ہیں تو ہوشیار ہوجائیں! حکومت اب آپ کی کمائی پر بھی نظر رکھ رہی ہے۔
مالی سال 2025-26 کا بجٹ 10 جون کو پیش ہونے جارہا ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس بار بجٹ میں سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کےلیے ایک نیا ’’سرپرائز‘‘ تیار کیا جارہا ہے۔ جی ہاں، بات ہورہی ہے یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور وی لاگرز پر ٹیکس لگانے کی!
ذرائع بتاتے ہیں کہ انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMAP) نے تجویز دی ہے کہ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 3.
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں سوشل میڈیا کو صرف تفریح یا اظہارِ رائے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ ایک باقاعدہ ’’کمائی کا میدان‘‘ بن چکا ہے اور حکومت اس میدان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز حکومت کے سنجیدہ غور و فکر میں ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے بجٹ میں اس پر باقاعدہ اعلان ہوجائے۔ تو اگر آپ بھی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر لاکھوں کما رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے اب حساب کتاب کا وقت آگیا ہو!
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔