—فائل فوٹو
کرتارپور راہداری کے زیرو ٹرمینل گیٹ آج بھی بند ہیں۔
شکر گڑھ گوردوارہ دربار صاحب کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرتارپور راہداری 16 روز سے بھارت کی جانب سے بند ہے۔
مقامی سکھ یاتریوں اور سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔
دربار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کرتارپو رہداری معمول کے مطابق کھلی ہے، وہ بھارتی یاتریوں کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر اور ان کی آمد کے منتظر ہیں۔
بھارت نے آج پانچویں روز نہ یاتریوں کی لسٹ دی ہے اور نہ ہی کوئی پیغام دیا ہے۔
کرتار پور انتظامیہ نے سکھ یاتریوں کی میزبانی کے لیے مکمل انتظامات کر رکھے ہیں۔
ادھر دربار میں آئے یاتریوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کرتارپور راہداری کھولے اور مذہبی مقامات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کرتارپور راہداری
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔