بینک آف پنجاب کی اینالسٹ اور انویسٹرز کے لیے کارپوریٹ بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 ستمبر 2025ء)بینک آف پنجاب (BOP) نے گزشتہ روز بروکریجز، ریسرچ اینالسٹ اور مارکیٹ کے شرکاء کے لیے ایک کارپوریٹ بریفنگ کا انعقاد کیا، جس میں نصف سالہ اور سالانہ مالی کارکردگی پر روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس کی صدارت صدر و سی ای او جناب ظفر مسعود نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ چیف فنانشل آفیسر جناب ندیم عامر، چیف ڈجیٹل آفیسر جناب نوفل داوٴد، کمپنی سیکرٹری جناب کامران حفیظ، گروپ ہیڈ ٹریژری و کیپیٹل مارکیٹس جناب قاسم ندیم اور گروپ ہیڈ کارپوریٹ و انویسٹمنٹ بینکنگ جناب عمر خان بھی موجود تھے۔
بینک آف پنجاب نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں تاریخی نتائج حاصل کیے، جو بینک کی مضبوط حکمتِ عملی اور آپریشنل کامیابی کا ثبوت ہیں۔
(جاری ہے)
بینک کے آپریٹنگ منافع میں 278 فیصد اضافہ ہوا اورقبل ازٹیکس منافع بڑھ کر 15.
اینالسٹ کے سوال و جواب کے سیشن میں کئی اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ پائیدار کارکردگی سے متعلق سوال پر انتظامیہ نے وضاحت کی کہ منافع بنیادی طور پر ڈپازٹ مکس میں ڈھانچہ جاتی بہتری، ڈجیٹل اپناوٴ میں تیزی اور فیس انکم میں اضافے پر مبنی ہے، جو کہ دیرپا ہے اور کسی وقتی فائدے پر انحصار نہیں کرتا۔
سیلاب سے زرعی اور ایس ایم ای پورٹ فولیوز پر ممکنہ اثرات پر اینالسٹس کی تشویش کے جواب میں انتظامیہ نے وضاحت دی کہ زرعی اور ایس ایم ای فنانسنگ بینک کے قرضوں کے تقریباً ایک تہائی پر مشتمل ہے، تاہم اس میں صرف 8 فیصد حصہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہے۔ ان میں سے 76.59 فیصد سرکاری اسکیموں کے تحت فراہم کردہ فرسٹ لاس گارنٹی سے کور ہے، جس کی وجہ سے غیر محفوظ حصہ بہت کم ہے۔ بینک کا اپنا کمرشل پورٹ فولیو زیادہ تر کولیٹرل اور انشورنس کے ساتھ ہے جبکہ غیر محفوظ حصہ کل قرضوں کا صرف 0.18 فیصد سے بھی کم ہے۔ کسان کارڈ پورٹ فولیو کی ادائیگی کی شرح پہلی سائیکل میں 99 فیصد رہی ہے، اور باقی بقایاجات گارنٹی ڈھانچوں کے تحت جذب ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے زور دیا کہ محتاط لینڈنگ پالیسی اور ڈیٹا پر مبنی کلائنٹ سلیکشن کی بدولت زرعی اور ایس ایم ای پورٹ فولیو موسمیاتی چیلنجز کے باوجود مستحکم ہیں۔
ٹرم ڈپازٹس اور سرمایہ کاری کی ری پرائسنگ حکمت عملی پر سوالات کے جواب میں انتظامیہ نے بتایا کہ 502 ارب روپے کے ٹرم ڈپازٹس گزشتہ سال سے منتقل ہوئے تھے جن میں سے 87 فیصد اگست تک میچور ہو چکے ہیں جبکہ صرف 13 فیصد باقی ہیں، جس سے لائبیلٹی سپریڈ بہتر ہوا ہے۔ سرمایہ کاری ا پورٹ فولیو میں 57 فیصد فلوٹنگ ریٹ بانڈز، 19 فیصد فکسڈ پی آئی بیز اور 24 فیصد ٹی بلزپر مشتمل ہے، جو محتاط اورمتوازن حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈپازٹس کی نمو اور موجودہ اکاوٴنٹس کے مکس پر گفتگو کرتے ہوئے انتظامیہ نے بتایا کہ بینک کے موجودہ کرنٹ اکاوٴنٹس کا تناسب 2023 میں 17 فیصد سے بڑھ کر 2025 کی پہلی ششماہی میں 24 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو کہ سال کے آخر کے ہدف 22 فیصد سے بڑھ گیاہے۔ یہ کامیابی اسلامی بینکنگ کے پھیلاوٴ اور کسٹمر فرسٹ ڈجیٹل اقدامات کی مرہونِ منت ہے۔
شیئر پرائس کے حوالے سے سوالات کے جواب میں انتظامیہ نے واضح کیا کہ بینک باضابطہ انداز میں فارورڈ لکنگ گائیڈنس نہیں دیتا، تاہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات، بہتر ڈویڈنڈ پے آوٴٹ اور پائیدار منافع نے گزشتہ سال کے دوران شیئر پرائس میں 294 فیصد اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ رجحان مستقبل میں بھی بینک کی مضبوط بنیادوں اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت جاری رہے گا۔
بینک کے صدر و سی ای او ظفر مسعود نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
“ہمارے نتائج کئی سالوں کی ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، جن کے تحت نجی کم لاگت ڈپازٹس کو ہدف بنانا، ڈپازٹس کی ری پرائسنگ کو موٴثر بنانا، کرنٹ اکاوٴنٹس میں اضافہ اور ٹریژری آپریشنز کو زیادہ موٴثر بنانا تھا۔ ساتھ ہی ہم محتاط ہیں اور بیرونی خطرات، بالخصوص موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اپنے اسٹیک ہولڈرز کو مسلسل ویلیو فراہم کر سکیں۔”
مستقبل کے لائحہ عمل کے طور پر، بینک نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسٹمر کے تجربے کو مزید بہتر بنائے گا، ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن کو تیز کرے گا اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دے گا، بالخصوص ایس ایم ای، زراعت اور ہاوٴسنگ فنانس کے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انتظامیہ نے ایس ایم ای بینک کے کے تحت
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :