بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کیلئے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کیلئے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
چیئرمین محمود بشیر ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا جس میں رکن علی محمد خان نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں بلکہ انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اختیارات عوام تک منتقل ہوں۔
وزیر مملکت برائے قانون وانصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت چاہیے، ہم گلیاں نالیاں بنانا نہیں چاہتے لیکن اس لئے بنانی پڑتی ہیں کیونکہ بلدیاتی نظام نہیں ہے۔
چیئر مین کمیٹی نے کہا بلدیاتی نظام ضروری تھا لیکن صوبوں نےمنتقل نہیں کیا، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ کیسے ہوگا۔
کمیٹی رکن عالیہ کامران نے کہا جب وفاق میں بلدیاتی اںتخابات ملتوی کئے گئے تو کس کی حکومت تھی؟ اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس وقت یہ انتخابات کیوں ملتوی کئےگئے؟۔
علی محمد خان نے جواباً کہا کہ اس گنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے ہیں، ہم سمیت کسی پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے، بلدیاتی انتخابات ہمیشہ آمروں کے دور میں ہوئے ہیں۔
بعدازاں قائمہ کمیٹی نے بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کیلئے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔