یورپی ملک مالٹا کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
یورپی ملک مالٹا کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 26 May, 2025 سب نیوز
موسٹا (سب نیوز)یورپی ملک مالٹا نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے کہا ہے کہ ان کا ملک جلد فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔
ٹائمز آف مالٹا کی رپورٹ کے مطابق موسٹا میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رابرٹ ابیلا نے کہا کہ 45 سالہ طویل بحث کے بعد اب ان کی حکومت وہ پہلی حکومت ہوگی جو فلسطینی ریاست کو رسمی طور پر تسلیم کرے گی۔اگرچہ مالٹا پہلے ہی فلسطینی ریاست کو عملی طور پر تسلیم کرتا ہے اور وہاں ایک فلسطینی سفیر بھی موجود ہے، تاہم اسے آج تک رسمی اور قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔
رابرٹ ابیلا نے اشارہ دیا کہ یہ پیشرفت 20 جون کو ہوگی، جو اقوام متحدہ کی ایک مجوزہ کانفرنس کی تاریخ ہے۔وزیر خارجہ ایان بورگ نے ہفتے کے روز عندیہ دیا تھا کہ مالٹا اور چند دیگر ممالک 20 جون کی کانفرنس کے دوران مشترکہ طور پر فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔
غزہ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مالٹا ان انسانی سانحات سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا، انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بننے والے النجار خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد کو مالٹا میں پناہ دی جائے گی۔غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق جمعے کو غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں ڈاکٹر میاں بیوی کے گھر پر فضائی حملے میں ڈاکٹر میاں بیوی حمدی النجار اور ان کی اہلیہ علاالنجار کے 9 بچے شہید ہوئے جبکہ حمدی اور ان کا ایک اور بیٹا آدم اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے متاثرہ فلسطینی خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مالٹا آپ اور آپ کے خاندان کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے اور آپ کے ساتھ اپنے شہریوں جیسا سلوک کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتباہی نہیں دیکھ سکتے، یہ نہ ہو مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو مکمل بند کرنے کی ہدایت کردیں، قائمہ کمیٹی تباہی نہیں دیکھ سکتے، یہ نہ ہو مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو مکمل بند کرنے کی ہدایت کردیں، قائمہ کمیٹی جو عازمین حج رہ گئے ہیں انہیں اگلے سال ترجیحا کامیاب قرار دیا جائے، نجی حج ٹور آپریٹرز عدالتوں کو عوام کیلئے مزید قابل رسائی اور شفاف بنایا جائے گا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پشاور، پیپلز پارٹی کے احتجاج کے دوران ریڈ زون میں ہنگامہ آرائی، پولیس کی شیلنگ، متعدد کارکن زخمی ، بلاول کی مذمت ایران کے پرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم کی ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 1ارب 94 کروڑ کی کرپشن، نیب نے تحقیقات شروع کردیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فلسطین کو
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔