سحر ہاشمی کو ’’خدمت گزار‘‘ جیون ساتھی کی تلاش؛ شرائط بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ سحر ہاشمی نے اپنے ممکنہ جیون ساتھی کےلیے کچھ انتہائی دلچسپ شرائط کا انکشاف کیا ہے جو ان کی سادہ طبیعت اور عملی سوچ کا عکاس ہیں۔اداکارہ نے ایک یوٹیوب شو میں اپنے خوابوں کے شوہر کی تصویر کشی کرتے ہوئے اپنے ہونے والے شوہر کےلیے کچھ خاص خواہشات کا اظہار کیا ہے۔سحر ہاشمی نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک ایسے شریک حیات کی خواہش رکھتی ہیں جو نہ صرف ان کی دیکھ بھال کرے بلکہ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی ان کا ہاتھ بٹائے۔ ’’میرا شوہر ایسا ہو جو مجھے کھانا کھلائے، میرے تھکے ہوئے پیر دبائے، اور سب سے اہم بات اسے چائے بنانی آتی ہو! میرا خیال ہے کہ ہر لڑکے کو اچھی چائے بنانی آنی چاہیے، یہ بہت ضروری ہے‘‘۔اپنی شخصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے سحر نے اعتراف کیا کہ وہ بہت جذباتی انسان ہیں۔ ’’میں اکثر پریشانی کی صورت میں شدید ردعمل دیتی ہوں۔ اس لیے میں چاہوں گی کہ میرا ساتھی پرسکون، سمجھدار اور معاملہ فہم ہو جو میری بات سنے اور مسائل حل کرنے میں میری مدد کرے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے رشتے کی خواہشمند ہیں جہاں دونوں ایک دوسرے کی شخصیت کو سمجھیں اور قبول کریں۔سحر ہاشمی کی اس کھری اور سادہ گفتگو کو سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی ملی ہے۔ ان کے مداح نہ صرف ان کی اداکاری کے معترف ہیں بلکہ ان کے سیدھے سادے اور حقیقت پسندانہ خیالات کو بھی سراہ رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے ان کی اس بات کی تعریف کی کہ آج کے دور میں بھی کوئی شخص شادی کے لیے اتنی سادہ اور عملی شرائط رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سحر ہاشمی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔