چارلی کرک کے قتل کے بعد ملزم کی دوست کے ساتھ کیا گفتگو ہوئی؟ پوری تفصیل سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
امریکی قدامت پسند سیاسی کارکن چارلی کرک کے قتل کے الزام میں گرفتار 22 سالہ ٹائلر رابنسن کے اپنے روم میٹ کو کیے گئے مسیجز سامنے آئے ہیں جس میں وہ کرک کو قتل کرنے کا انکشاف کررہا ہے۔
رابنسن کو گرفتار کرکے ان پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق روم میٹ نے پیغامات تفتیش کاروں کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان پیغامات میں رابنسن نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ میں ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی قدامت پسند سیاسی کارکن چارلی کرک کے قتل کے ملزم پر باضابطہ فردِ جرم عائد
چارلی کرک کے قتل کے بعد ملزم کا اپنے روم میٹ کے ساتھ ٹیکسٹ مسیج پر یوں مکالمہ ہوا:
رابنسن: جو کر رہے ہو وہی چھوڑ دو، میرے کی بورڈ کے نیچے دیکھو۔
(جب روم میٹ نے کی بورڈ کے نیچے دیکھا تو وہاں ایک نوٹ تھا جس میں مبینہ طور پر لکھا تھا، ‘مجھے موقع ملا کہ میں چارلی کرک کو ختم کر دوں اور میں ایسا کرنے جا رہا ہوں۔’)
روم میٹ: ‘کیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تم مذاق کر رہے ہو، ہاں؟؟؟؟’
یہ بھی پڑھیے: چارلی کرک کی آخری رسومات، غم سے نڈھال بیوی نے کیا پیغام دیا؟
رابنسن: میں ابھی بھی ٹھیک ہوں پیارے، مگر میں اوریم میں کچھ دیر کے لیے پھنس گیا ہوں۔ زیادہ دیر نہیں لگنی کہ گھر آ جاؤں مگر مجھے ابھی اپنی رائفل اٹھانی ہے۔ سچ بتاؤں تو میں یہ راز عمر بھر چھپا کر رکھنا چاہتا تھا۔ معاف کرنا کہ تمہیں اس میں شامل کرنا پڑا۔
روم میٹ: تم وہ شخص نہیں تھے جس نے یہ کیا، ہے نا؟؟؟
رابنسن: میں ہی تھا، مجھے معاف کردو۔
روم میٹ: مجھے لگا کہ اس شخص کو پکڑ لیا گیا تھا؟
رابنسن: نہیں، انہوں نے کسی پاگل بوڑھے کو پکڑ لیا، پھر کسی کو اسی طرح کے کپڑوں میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔ میں نے منصوبہ بنایا تھا کہ تھوڑی دیر بعد اپنی رائفل اپنے ڈراپ پوائنٹ سے اٹھا لوں گا، مگر شہر کے اس حصے کو لاک کر دیا گیا۔ یہاں خاموشی ہے، تقریباً نکلنے کے لیے مناسب ہے، مگر ایک گاڑی ابھی بھی ادھر کھڑی ہے۔
روم میٹ: کیوں؟
رابنسن: کیوں میں نے یہ کیا؟
روم میٹ: ہاں
رابنسن: میں اس کی نفرت سے تنگی ہو چکی تھی۔ بعض نفرت ایسی ہوتی ہے جسے مذاکرات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
رابنسن: اگر میں بنا دیکھے اپنی رائفل اٹھا لوں تو میرے بارے میں کوئی ثبوت باقی نہ رہتا۔ میں رائفل دوبارہ لینے کی کوشش کروں گا، امید ہے کہ لوگوں نے اپنی توجہ ہٹا لی ہوگی۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے اسے پایا ہے یا نہیں۔
روم میٹ: تم نے یہ منصوبہ کتنی دیر سے بنایا تھا؟
رابنسن: شاید ایک ہفتے سے تھوڑا زیادہ۔ میں وہاں قریب پہنچ سکتا ہوں مگر اس کے پاس ایک اسکواڈ کار کھڑی ہے۔ میرا خیال ہے انہوں نے وہ جگہ پہلے ہی چھان لی مگر میں خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔
رابنسن: کاش میں نے واپس مڑ کر اسے اپنی گاڑی پر پہنچنے کے فوراً بعد اٹھا لیا ہوتا….
واحد چیز جو میں نے چھوڑی وہ رائفل تھی جو تولیے میں لپٹی ہوئی تھی….
رابنسن: یہ پیغامات مٹا دو
یہ بھی پڑھیے: چارلی کرک کے قتل کے مرکزی ملزم کی اطلاع کس نے دی؟
رابنسن: میرے والد رائفل کی تصاویر چاہتے ہیں … وہ کہتے ہیں دادا جان جاننا چاہتے ہیں کہ کس کے پاس کیا ہے، فیڈز نے رائفل کی تصویر ریلیز کی ہے، اور وہ بہت منفرد ہے۔ وہ ابھی مجھے فون کر رہا ہے، جواب نہیں دے رہا۔
رابنسن: جب سے ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں، میرے والد ان کے کافی سخت گیر سپورٹر ہو چکے ہیں۔
رابنسن: میں خود چھوڑ کے پیش ہو جاؤں گا، یہاں میرے ایک پڑوسی میں شیرف کا ڈپٹی ہے۔
رابنسن: تم ہی وہ ہو جس کی مجھے فکر ہے پیارے۔
روم میٹ: مجھے تمہاری زیادہ فکر ہے۔
رابنسن: میڈیا سے بات مت کرنا براہِ کرم۔ کوئی انٹرویو یا تبصرہ نہ دینا۔ … اگر پولیس کوئی سوال کرے تو وکیل طلب کرو اور چپ رہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
charlie kirk murder ٹائلر رابنسن چارلی کرک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹائلر رابنسن چارلی کرک چارلی کرک کے قتل کے روم میٹ کے لیے فکر ہے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک