جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ اسطرح کی حرکت کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جا سکتی اور ملک میں قانون کے دائرے سے باہر کوئی بھی گروہ اس طرح کا خود ساختہ انصاف کرنے کا مجاز بھی نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے علی گڑھ میں چار مسلم تاجروں پر ہندو انتہا پسندوں کی بھیڑ کے ذریعہ کئے گئے بہیمانہ حملے کو انسانیت سوز اور ملک کے لئے شرمناک عمل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شبہ میں مسلم نوجوانوں کو مارنا ملک کے امن و قانون کے لئے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ اس سلسلے کے واقعات لگاتار رونما رہے ہیں، لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں لیکن سخت قانون اور اعلی عدالت کی ہدایات کے باوجود "گاؤ رکشک گروپ" بے خوف ہو کر لوگوں کی جان کے درپہ ہے اور ان کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔

مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ حکومتوں کو واضح اعلان کرنا چاہیئے کہ اس طرح کی حرکت کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جا سکتی اور ملک میں قانون کے دائرے سے باہر کوئی بھی گروہ اس طرح کا خود ساختہ انصاف کرنے کا مجاز بھی نہیں ہے، نیز سپریم کورٹ نے جو ہدایات دی ہیں، ان پر عمل در آمد کو یقینی بنانا چاہیئے۔ مولانا مدنی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ، فوری اور مؤثر تفتیش کی جائے۔ تمام حملہ آوروں کو فی الفور گرفتار کر کے انسدادِ ہجومی تشدد و دیگر سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔ زخمی نوجوانوں کے مکمل علاج، تحفظ اور معقول معاوضے کا انتظام کیا جائے۔

واضح رہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء ہند شہر علی گڑھ کے صدر مفتی اکبر قاسمی کی قیادت میں ایک وفد جے این ایم سی اسپتال پہنچا اور متاثرہ نوجوانوں کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کو جمعیۃ علماء ہند علی گڑھ نے ایک رپورٹ بھی ارسال کی ہے، جس کے مطابق جمعیۃ علماء ہند کے نمائندے اعلی افسران سے لگاتار رابطے میں تاکہ سبھی شرپسندوں کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ گوشت کے تاجر ہیں، ان کے پاس غیر ممنوعہ جانور کا گوشت تھا، جس کا بل بھی ان کے پاس موجودہ ہے، اس کے باوجود شرپسندوں نے کچھ نہ سنا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جمعیۃ علماء ہند کے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا