اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کو اعلانات کے باجود انعامات نہ دینے والے کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان کے ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کے مقابلوں میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے نہ صرف طلائی تمغہ حاصل کیا بلکہ پاکستانی قوم کا ان عالمی کھیلوں میں میڈل کے حصول کا 3 دہائیوں سے جاری انتظار بھی ختم کیا تھا۔
ارشد نے یہ کارنامہ 92.97 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر سرانجام دیا جو ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔ یہ ارشد کے کریئر کی سب سے بڑی جبکہ دنیا میں اب تک پھینکی جانے والی چھٹی سب سے طویل جیولن تھرو تھی۔ارشد نے اس مقابلے میں اپنی آخری تھرو بھی 90 میٹر سے زیادہ فاصلے پر پھینکی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ارشد ندیم پر انعامات کی برسات جاری، گورنر پنجاب نے تحفے میں کیا کچھ دیا؟
ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کیا تو ہر طرف سے انعامات کی برسات ہونے لگی۔ حکومت سمیت پاکستان کے بڑے بزنس مین، سنگرز اور عام عوام نے بھی دل کھول کر انعامات کا اعلان کیا۔
ارشد ندیم کو مل کر میڈیا کے ذریعے انعامات دینے کا وعدہ کرنے والوں نے کیا ارشد ندیم کو انعامات دیے ہیں اس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے انعامات ارشد ندیم کو مل گئے ہیں مگر پاکستانی بزنس مین حلقوں نے ارشد ندیم کو یہاں بھی چونا لگا دیا۔
کون سے بزنس مینوں نے اعلان کیا اور انعامات نہیں دیے؟ذرائع کے مطابق ارشد ندیم کو وعدے کے باوجود انعام نہ دینے والوں میںسب سے اہم نام اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کا ہے جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ ارشد ندیم کو گوجرانولہ اے آر وائی لگون میں ایک اپارٹمنٹ دیا جائے گا۔ 9 ماہ گزرنے کے باجود ارشد ندیم کو اب تک اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کی طرف کوئی اپاڑٹمنٹ گفٹ نہیں کیا گیا۔
اس کے بعد نیوز ون ٹی وی اور الکبیر ٹاؤن ٹاؤن کے مالک چوہدری اورنگرزیب ہیں جنہوں نے ارشد ندیم کو ڈیڑھ کروڑ مالیت کا ایک کنال کا پلاٹ، 5 کروڑ روپے کی کنسٹرکشن، بجلی، گیس، پانی کے بل تاحیات دینے کا اعلان کیا مگر 9 ماہ گزارنے کے باوجود ایک روپیہ بھی ارشد ندیم کو نہیں دیا۔ یہ اعلانات میڈیا کی حد تک محددو رہے۔ چوہدری اونگرزیب نے ارشد ندیم کے والدین کے ساتھ ائیر پورٹ پر کھڑے ہوکر اعلان کیا تھا کہ ارشد ندیم ہمارا فخر ہے، یہ انعامات، یہ پلاٹ کچھ بھی نہیں ہیں مگر بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گئے۔
تیسرے نمبر پر روڈن انکلیو نے قومی ہیرو کو ایگزیکٹو بلاک میں 2 کنال کا پلاٹ دینے کا اعلان کیا مگر وہ بھی اپنے وعدے سے مکر گئے جس کے بعد اسی روڈن انکلیو پر چوہدری گروپ کے مالک ارشد چوہدری کی جانب سے ملتان اور اسلام آباد میں 7، 7 مرلے پلاٹ گفٹ کرنے کا اعلان کیا اس سے بھی پھر گئے اور ارشد ندیم کو کوئی انعام ابھی تک نہیں ملا۔
سنو ٹی وی اور بلیو ورلڈ سٹی کے مالک چوہدری سعد نذیر ہیں جنہوں نے ارشد ندیم کو ساتھ کھڑا کر کے انہیں اپنی سوسائٹی بلیو ورلڈ سٹی کا برینڈ ایمبسڈر بنایا اور لیجنڈ ایونیو میں پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔ وہ بھی اپنی تشہیر کروانے کے بعد انعامات دینے سے مکر گئے۔
عبد اللہ سٹی کے مالک عاصم عزیز نے ارشد ندیم کو ایک کنال کا پلاٹ اور 10 لاکھ روپے کیش دینے کا اعلان کیا مگر ابھی تک ان کا بھی وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا، اسی طرح ممتاز سٹی اسلام آباد نے اپارٹمنٹ دینے کا اعلان کیا مگر وہ اعلان بھی اعلان تک ہی محدود رہا۔
ارشد ندیم کے لیے زمین ڈاٹ کام نے بھی اپاڑٹمنٹ دینے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا مگر اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
اس کے علاوہ ڈسکوری گارڈن نے 10 مرلے اور کپیٹل سمارٹ سٹی نے ایک کنال کا پلاٹ دینے کا اعلان کیا مگر ابھی تک اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم کو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔
ریئل اسٹیٹ کے 2 اہم نام گرینڈ اورچرڈ اور آر جے ایس سکوائر بحریہ ٹاؤن اسلام آباد نے بھی انعامات دینے کے اعلانات کیے۔
گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے قریبی ذرائع کے مطابق جن بزنس مینوں نے انعامات دینے کا اعلان کیا انہوں نے قومی ہیرو اپنی کاروباری اور ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا اور بعد میں کبھی ان سے رابطہ تک نہیں کیا جبکہ دوسری جانب آرمی چیف، صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ سمیت دیگر حکومتی عہدایدروں کی جانب سے جو اعلان کیے گئے وہ ارشد ندیم کو کچھ دنوں بعد ہی دے دیے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد ندیم اعلانات انعامات پلاٹ گھر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلانات انعامات پلاٹ گھر دینے کا اعلان کیا مگر نے ارشد ندیم کو انعامات دینے کنال کا پلاٹ کے مالک
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔