جے یو آئی (س) کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اورملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام دینی سیاسی جماعت متحد ہو جائیں، حکومت بھی تمام کو ساتھ لے کر چلے اور قومی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے۔  اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے زیراہتمام جامع مسجد رشیدیہ رشید آباد میں منعقدہ فتح مبین پاکستان سیمینار سے خطاب میں مرکزی امیر مولانا عبدالحق ثانی نے کہا کہ اکابر کی سرپرستی میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، قران و سنت کی بالادستی کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، ملک میں غیر شرعی قانون سازی خصوصا کم عمری شادی کا بل کسی صورت قبول نہیں، مولانا عبدالحق ثانی نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کر کے پاکستان کا وقار بلند بلند کیا، ہم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقدر اسلامی نظام ہے، اس کے نفاذ کے لیے تمام جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
 
سیمینار کی صدارت قاری سعید احمد رحیمی نے کی جبکہ جاوید ہاشمی، سید کفیل شاہ بخاری، مفتی عامر محمود، ایوب مغل، حاجی عبد الواحد، حاجی رشید احمد نقشبندی مہمان خصوصی تھے، حافظ عبدالشکور ربانی، حافظ طارق محمود ضیا نے کلام پیش کیا، سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کفریہ طاقتیں خصوصا بھارت نے حال ہی میں مدارس و مساجد پر حملہ کر کے سمجھا کہ اسلام اور مدارس ختم ہو جائیں گے مگر یہ ان کی بھول ہے، اسلام کبھی ختم نہیں ہوگا، علمائے کرام اور دینی رہنما دین کا جھنڈا لے کر کھڑے ہیں اسے کبھی نہیں گرنے دیں گے، جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام دینی سیاسی جماعت متحد ہو جائیں، حکومت بھی تمام کو ساتھ لے کر چلے اور قومی متفقہ لائحہ عمل اختیار کر ے۔ 

جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید یوسف شاہ نے کہا جمیعت علمائے اسلام( س) ملک میں قران و سنت کے نفاذ کے لیے تمام دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھے گی، ملکی استحکام اور دوبارہ جارحیت پر دشمن کو پھر منہ توڑ جواب دینے کے لیے افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل کے ساتھ کھڑے ہیں، قائد حرار مولانا سید کفیل شاہ بخاری اور جے یو آئی کے رہنما مفتی عامر محمود نے مولانا سمیع الحق شہید، مولانا حامد الحق حقانی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکابر شہدا کا مشن جاری رہے گا، سید کفیل شاہ بخاری نے کہا کہ حضرت مولانا عبدالحق رحم اللہ علیہ ان علما میں شامل تھے جنہوں نے ملک و متفقہ آئین دیا، خانوادہ حقانی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، بھارت کا غرور خاک میں ملانے پر افواج پاکستان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جنگ افواج پاکستان نے صرف بھارت سے ہی نہیں امریکہ اسرائیل سے بھی لڑی ہے اور انہیں شکست دی ہے، فیلڈ مارشل کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افواج پاکستان جاوید ہاشمی کے لیے تمام کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات