اسلام کبھی ختم نہیں ہوگا، علمائے کرام اور دینی رہنما دین کا جھنڈا لے کر کھڑے ہیں اسے کبھی نہیں گرنے دیں گے، جاوید ہاشمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
جے یو آئی (س) کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اورملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام دینی سیاسی جماعت متحد ہو جائیں، حکومت بھی تمام کو ساتھ لے کر چلے اور قومی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے زیراہتمام جامع مسجد رشیدیہ رشید آباد میں منعقدہ فتح مبین پاکستان سیمینار سے خطاب میں مرکزی امیر مولانا عبدالحق ثانی نے کہا کہ اکابر کی سرپرستی میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، قران و سنت کی بالادستی کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، ملک میں غیر شرعی قانون سازی خصوصا کم عمری شادی کا بل کسی صورت قبول نہیں، مولانا عبدالحق ثانی نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کر کے پاکستان کا وقار بلند بلند کیا، ہم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقدر اسلامی نظام ہے، اس کے نفاذ کے لیے تمام جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
سیمینار کی صدارت قاری سعید احمد رحیمی نے کی جبکہ جاوید ہاشمی، سید کفیل شاہ بخاری، مفتی عامر محمود، ایوب مغل، حاجی عبد الواحد، حاجی رشید احمد نقشبندی مہمان خصوصی تھے، حافظ عبدالشکور ربانی، حافظ طارق محمود ضیا نے کلام پیش کیا، سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کفریہ طاقتیں خصوصا بھارت نے حال ہی میں مدارس و مساجد پر حملہ کر کے سمجھا کہ اسلام اور مدارس ختم ہو جائیں گے مگر یہ ان کی بھول ہے، اسلام کبھی ختم نہیں ہوگا، علمائے کرام اور دینی رہنما دین کا جھنڈا لے کر کھڑے ہیں اسے کبھی نہیں گرنے دیں گے، جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام دینی سیاسی جماعت متحد ہو جائیں، حکومت بھی تمام کو ساتھ لے کر چلے اور قومی متفقہ لائحہ عمل اختیار کر ے۔
جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید یوسف شاہ نے کہا جمیعت علمائے اسلام( س) ملک میں قران و سنت کے نفاذ کے لیے تمام دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھے گی، ملکی استحکام اور دوبارہ جارحیت پر دشمن کو پھر منہ توڑ جواب دینے کے لیے افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل کے ساتھ کھڑے ہیں، قائد حرار مولانا سید کفیل شاہ بخاری اور جے یو آئی کے رہنما مفتی عامر محمود نے مولانا سمیع الحق شہید، مولانا حامد الحق حقانی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکابر شہدا کا مشن جاری رہے گا، سید کفیل شاہ بخاری نے کہا کہ حضرت مولانا عبدالحق رحم اللہ علیہ ان علما میں شامل تھے جنہوں نے ملک و متفقہ آئین دیا، خانوادہ حقانی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، بھارت کا غرور خاک میں ملانے پر افواج پاکستان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جنگ افواج پاکستان نے صرف بھارت سے ہی نہیں امریکہ اسرائیل سے بھی لڑی ہے اور انہیں شکست دی ہے، فیلڈ مارشل کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افواج پاکستان جاوید ہاشمی کے لیے تمام کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔