سٹی 42 : آرمڈ فورسز انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی ) نیشنل انسٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز  میں بھارت سے واپس آنیوالے بچوں عبداللہ اور منسا   کی کامیاب سرجری کےبعد ان کے والد نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مشکور ہیں جنہوں نے میرے بچوں کی ذمہ داری لی ۔

عبداللہ اور منسا کا علاج بھارت میں جاری تھا مگر کشیدگی کے باعث بھارتی حکومت نے دونوں بچوں کو واپس بھیج دیا۔ اس حوالے سے عبداللہ اور منسا کے والد شاہد احمد کا کہنا ہے کہ’’عبداللہ اور منسا کے کیس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری نوٹس لیا اور اے ایف آئی سی نے سرجری کی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بچوں کی سرجری 9 سال سے نہیں ہو رہی تھی، اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں نے محنت کرکے اس سرجری کو کامیابی سے سرانجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کی ذمہ داری لی، الحمد اللہ اب میرے بچے کافی بہتر ہیں، میں خود بھی مریض ہوں شاید صدمہ برداشت نہ کرپاتا، ڈاکٹروں نے بہت محنت کی جو قابل تعریف ہے، اے ایف آئی سی بہت بہترین ادارہ ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آذر بائیجان کے وزیرِ دفاع سے ملاقات؛ علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال

 کمانڈنٹ/ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل(ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا تھا کہ اے ایف آئی سی پاکستان کا ایک پریمیئر کارڈیالوجی کا انسٹیٹیویٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کیلئے بہترین سروسز دی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ اور منسا دونوں بہن بھائی علاج کیلئے بھارت گئے تھے، پاک بھارت کشیدگی کے باعث بھارت نے بچوں کا اعلاج کرنے سے انکار کردیا اور بچے پاکستان واپس آگئے، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈر مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ان بچوں کو یہاں بلایا گیا،یہاں پر ان بچوں کی اسسمنٹ کے بعد ایک ٹیم تشکیل دی گئی، اس ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔

کروڑوں کی ڈونیشن کھانے والا ملزم گرفتار

 ڈپٹی کمانڈنٹ اے ایف آئی سی بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر  نے اس حوالے سے کہا کہ عبداللہ کے حوالے سے ہم  نے ایک میڈیکل پلان مرتب کیا جو الحمدللہ ٹھیک رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس الحمد اللہ قابل ٹیم ہے اور غیر ممالک سے تربیت یافتہ ہے، عبداللہ اور منسا کو دل کی نہایت پیچیدہ بیماری تھی جس کے باعث ان کی سرجری ایک مرحلے میں مکمل نہیں ہوسکتی تھی، عبداللہ کی یہ سرجری پانچ سے چھ گھنٹے پر محیط تھی جو الحمد اللہ  کامیاب رہی۔

گاڑیوں کی قیمت میں 10 لاکھ روپے تک کمی

 کامیاب آپریشن کے حوالے سے کرنل ڈاکٹر داؤد کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو وہ پلان دیا جو بھارت کے ڈاکٹرز کی جانب سے دیئے گئے پلان سے بہت بہتر تھا،الحمد اللہ دونوں بچے بہت بہتر ہیں اور گھر جانے کی پوزیشن میں ہیںیہ بچے جب بھارت سے واپس آئے تو ان کے کیسز anesthesiaکے نقطہ نظر سے مشکل تھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے واپس آنے والے عبداللہ کا کیس ہماری ٹیم کیلئے چیلنج تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عبداللہ اور منسا اے ایف ا ئی سی فیلڈ مارشل الحمد اللہ بھارت سے حوالے سے انہوں نے بچوں کی کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا